صفحہ اول / صدائے کشمیر / کشمیر کا سودا نامنظور ۔۔۔ عشاء نعیم

کشمیر کا سودا نامنظور ۔۔۔ عشاء نعیم

خان صاحب آپ کو ہم نے وطن سے غداروں، کرپٹ مافیہ کی صفائی اور تبدیلی کے لیے منتخب کیا ۔
آپ نے ایک سالہ دور میں ہمیں سینکڑوں سالہ تجربہ کروا دیا ۔
آپ نے حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہ قانون بنوانے کی تجویز تو دی مگر گستاخ رسول آسیہ مسیح کو بری کر دیا گیا۔ ہم نے سنا کہ ثابت نہیں ہوا جو چار بار ثابت ہو چکا تھا آپ کے دور حکومت میں ایک دم ثبوت ختم ہو گئے ۔ہم نے سنا ملکی سلامتی کا مسئلہ ہے اس حکومت کے خلاف بات نہیں کرنے دینی یہ وطن کو اوج ثریا تک پہنچادیں گے اس حکومت کے پاؤں مضبوط کرنے ہیں ورنہ ملک ٹوٹ جائے گا۔ ہم چپ ہو گئے ۔ ہم نے برداشت کیا
آپ نے مہنگائی کا طوفان کھڑا کیا۔جو صرف سوکھی روٹی کھاتا تھا وہ بھی اس کے ہاتھ سے چھین لی گئی۔کرائے دار سڑکوں پہ آ گئے ۔
ہمیں کہا گیا برداشت کریں کچھ عرصہ بعد یہ سب ٹھیک ہو جائے گا یہی ملک کے مفاد میں ہے ۔
ہم چپ ہوگئے
ہم نے برداشت کیا
ہمارے ملک سے تیل و گیس کے ذخائر نکلے ۔آپ نے چودہ ارب لگا کر وہ کام ٹھپ کردیا ۔اور کہا یہی ملک کے حق میں بہتر ہے ۔
ہم چپ ہوگئے
ہم نے برداشت کیا
حتی کہ آپ نے نیشنل ایکشن پلان کے نام پہ ملک کی محب وطن جماعت اور فلاحی تنظیم جو روز سینکڑوں لوگوں کو کھانا دیتی تھی ۔جو لوگوں کو کپڑے اور شیلٹر دیتی تھی جو عید پہ ترسے ہوئے لوگوں کو گوشت دیتی تھی جو ہر مصیبت میں سب سے پہلے پہنچتے تھے سیلاب، بارش، زلزلہ ہو یا کوئی مصیبت وہ پہنچتےتھے، بین کردی گئی۔
کہا گیا یہی ملک کے حق میں بہتر ہے ۔
ہم چپ ہوگئے
ہم نے برداشت کیا
حتی کہ
اس محب وطن جماعت کے سربراہ حافظ سعید کو گرفتار کر لیا اس اللہ کے شیر کو جو عالم کفر کے ظالموں کو للکارتا تھا جو کشمیر کے لئے بولتا تھا جو کشمیریوں کے دل کی دھڑکن تھا۔ اس کی گرفتاری بھی وطن کے نام پہ کی گئی ۔اور کہا گیا یہی وطن کے حق میں بہتر ہے
ہم چپ رہے
ہم نے برداشت کیا
لیکن اب بات ہے ہماری شہہ رگ کی
اب بات ہے ہماری اس سلامتی کی جس کے نام پہ ہم نے سب برداشت کیا ۔
اب بات ہے ہمارے وطن کی ۔
اب بات ہے ان محبان وطن کی جو اس وطن کے لئے ستر برس سے زائد عرصہ سے کٹ رہے ہیں ۔
اب کشمیر کا سودا کیا تو مطلب پاکستان کا سودا کیا ۔
ہمیں یہ سال کا امن نہیں چاہیے ۔کشمیر دے کر بھارت سے خشک سالی سے مرنے کا پلان کامیاب نہ ہوگا ۔
نواز و بے نظیر جو لوگوں کے دلوں کی دھڑکن تھے ان پر ریاست سے غداری کی باتیں عام ہوئیں تو عوام نے انھیں دلوں سے نکال دیا ۔آپ نے بھی کوئی غیر مقبول فیصلہ کر لیا تو قوم کا اعتماد کھو دیں گے۔ ریاستی خود مختاری اور سلامتی چیز ہی ایسی ہے جس پہ کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

برف زاروں کا شہزادہ

دنیا میں ایک ایسا خطہ موجود ہے جو ساوتھ اشیا کا سوئیزرلینڈ بھی کہلاتا ہے …

رات گئی بات گئی

بابا مستانہ کی فہم و فراست کے مطابق” رات گئی بات گئی” والی منطق کے …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: کشمیر کا سودا نامنظور ۔۔۔ عشاء نعیم! This is the link: https://pakbloggersforum.org/no-compromise-on-kashmir/