صفحہ اول / تہذیب و ثقافت / فحاشی کا علمبردار، نہیں چلے گا ۔۔۔ عشاء نعیم

فحاشی کا علمبردار، نہیں چلے گا ۔۔۔ عشاء نعیم

"اسلامی جمہوریہ پاکستان” نام ہے اس ملک کا۔ جب بنا تھا تو اس کا نعرہ تھا پا کستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔ دو قومی نظریہ اس کی بنیاد تھی۔
اس کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح پہلے کانگرس کے حامی تھے جو بظاہر ہندو مسلم کے مشترکہ مفاد کے لیے کام کر رہی تھی لیکن جلد ہی قائداعظم جیسے زیرک لیڈر نے جان لیا کہ کانگرس ہندوؤں کے حقوق کی پاسدار جماعت ہے مسلمانوں کو کچھ نہیں ملنے والا بلکہ انگریز کے جانے کے بعد مسلمان ہندوؤں کی غلامی میں چلے جائیں گے تو وہ کانگرس چھوڑ کر مسلم لیگ میں آ گئے ۔
پھر مسلمان اور ہندو دو واضح گروہ بنے یعنی ایک طرف اسلام تھا ایک طرف ہندو ازم۔ جو اپنے اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہے تھے ۔
پا کستان کو بنانے کا فیصلہ ہی اس بنیاد پہ ہوا تھا کہ جن علاقوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں انھیں ملاکر مسلمانوں کا ایک ملک بنا دیا جائے ۔
قائد اعظم کی کئی ایک تقاریر و بیانات بھی ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ایک اسلامی ملک ہے ۔
جب آپ نے کہا تھا ہمارا قانون تو چودہ سو سال پہلے بن چکا ہے۔ جب آپ نے پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ قرار دیا تھا۔
لیکن لبرلز، جو اسلام اور پاکستان دونوں کے دشمن ہیں، جو پیسہ لے کر لبرلز بنے وہ لبرلز ازم پھیلانا چاہتے ہیں وہ پا کستان سے اسلام کی چھٹی کروانا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں پاکستان ایک اسلامی ملک نہیں اس کی بنیاد دو قومی نظریہ پہ نہیں۔
حالانکہ تھوڑی سی بھی عقل و شعور ہو تو سوچا جاسکتا ہے پھر پا کستان بنا ہی کیوں ؟
قائد اعظم محمد علی جناح نے کانگرس کو چھوڑا ہی کیوں؟
ایک مشترکہ ملک بن جاتا بھلا دو کی کیا ضرورت تھی ؟
لیکن یہاں سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
آئے دن نئے شوشے چھوڑے جاتے ہیں ۔ٹی وی پہ ایسے ٹاک شوز چلائے جاتے ہیں اب کہ مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم و ستم ہوئے وہ جھوٹ ہے ۔یہاں تک کہا گیا کہ کوئی ایک آدھ واقعہ ہوا بھی تو مسلمانوں نے بھی ہندوؤں پہ ظلم کیے تھے لیکن وہ کوئی بتاتا نہیں ہے ۔
مطلب نئی آنے والی نسل کے ذہن میں جو ڈالا جاتا ہے وہ کبھی امن کی آشا کے نام سے تو کبھی لبرل ازم کے فوائد کے نام سے اسلام سے دوری کے سوا کچھ نہیں ۔
اب دو قدم اور بڑھتے ہوئے پاکستان میں بزنس کے نام سے اس انداز سے ہماری نئی نسل پہ وار کیا جارہا ہے کہ کوئی سمجھ بھی نہ پائے ۔
پاکستان میں آن لائن رائڈ دینے والی ایک کمپنی نے اشتہار دیا جس پہ دلہن بنی ہوئی تھی
اشتہار تھا کہ
شادی کے دن بھاگنا ہو تو کریم بلا لو۔
ہمارے معاشرے میں یہ ایک گالی سمجھی جاتی ہے کہ گھر سے بھاگ گئی لیکن کریم نے اسے معمولی بات بناناچاہا۔
اب پاکستان میں ایک واشنگ پاوڈر کمپنی نے تو حد ہی کر دی۔
اس کمپنی نے قرآن پاک کی آیت کی توہین کرتے ہوئے اللہ رب العزت کی شان میں گستاخی کی ہے ۔
ایک داغ پہ لکھ دیا ہے
"چاردیواری میں رہو”
آگے لکھا ہے یہ داغ ہمیں کیا روک پائیں گے ؟
جبکہ یہ میرے رب کا فرمان ہے
وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى وَاَقِمۡنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيۡنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ؕ اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞
ترجمہ:
اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکٰوۃ دیتی رہو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اپنے نبی کی گھر والیو ! تم سے وہ گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔(احزاب 33 )

میرے رب کے فرمان کو استغفراللہ داغ کہنے والے لبرلز نہیں گستاخ رب العالمین ہیں جنھوں نے رب کے فرمان کو داغ کہا ۔
اس اسلامی معاشرے میں اس قسم کی گستاخی کیونکر برداشت کی جاسکتی ہے ۔
ہم اپنے رب کی اپنے خالق کی یہ گستاخی برداشت نہیں کریں گے
حکومت وقت کو اس پہ ایکشن لینا ہوگا ۔ان کمپنیز کے لئے کوئی اصول و ضوابط رکھنے ہوں گے ۔
اور ایسا کرنے والی کمپنیز کو سزا ‘جرمانہ اور بین کرنا ہوگا ۔
مغرب اور بھارت میں بھی آئے دن اسلام کی گستاخی کے واقعات ہو رہے ہیں ادھر پیسے کے لالچ میں نہ تو اشتہار بنانے والے کچھ کہتے ہیں نہ ہی ماڈلز اور نہ ہی ٹی وی چینلز اس بات کی پرواہ کرتے ہیں ۔ان سب کو صرف پیسہ نظر آتا ہے ۔اور لبرل ازم کے نام پہ دھول جھونکتے ہیں لوگوں کی آنکھوں میں ۔
دوسری طرف آپ ذرا اس معاشرے کی روایات بھی دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارے معاشرےکی عورتیں داغ کی وجہ سے نہیں بلکہ شرم و حیا اور اپنے رب کے حکم کی وجہ گھر سے نہیں نکلتی ۔
اسلام نے عورت کو اس قدر بھی پابند نہیں کیا کہ اس کی آزادی سلب ہو جائے بلکہ اسلام نے عورت کی حفاظت کی ہے اسلام نے عورت کو بلا وجہ گھر سے نکلنے سے منع کیا تو اس کے پیچھے اس کی عصمت کی حفاظت ہے ۔ورنہ عورت ضروری کام ‘علاج ‘درس و تدریس ‘فلاحی کام حتی کہ جنگ میں بھی شریک ہو سکتی ہے۔
مسلمان عورت مسجد میں جاتی ہے ۔حج کرتی ہے ۔عید کے دن بھی نماز پڑھنے کے لیے جانے کا کہا گیا ہے ۔
بس بلا وجہ گھر سے نکلنے سے منع کیا ہے اور مردوں کے ساتھ اختلاط سے ۔
ورنہ اہل مغرب کے اصول و ضوابط دیکھو تو آج چند ماہ کی بچی بھی محفوظ نہیں ہے ۔
آئے دن جو ہماری معصوم بچیوں پہ وار ہو رہے ہیں یہ سب اہل مغرب کا ڈالا ہوا گند ہے جس کی وجہ سے آج بنت حوا محفوظ نہیں ہے ۔ اہل مغرب ہماری معاشرتی اور اسلامی روایات دونوں کے خلاف محاذ کھڑا کیے ہوئے ہیں ۔
میری تمام پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ ایسی مصنوعات ک مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے اس کے مالک اس اشتہار کی ماڈل و دیگر لوگوں کو سزا دلوانے تک چین سے نہ بیٹھیں ۔کیونکہ یہ اشتہار اسلام کے خلاف ہے۔ ہمیں اپنے رب ‘ رحیم و کریم ‘خالق و مالک کی کے فرمان کی گستاخی ناقابل قبول ہے ۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

اصلاح معاشرہ کیسے ممکن……؟ اعظم فاروق

آج کل دنیا کے اندر جتنے بھی مسائل موجود ہیں خواہ وہ مہنگائی کا ہو، …

ایسے ازم جو دنیا میں کافی مشہور ہیں خاص طور پر مسلمانوں میں ۔۔۔ بقلم: جواد سعید

لبرلزم آزاد پسندی کا نام ہے۔ اس کا مقصد ایسا معاشرہ جس میں روداری ہو۔ …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: فحاشی کا علمبردار، نہیں چلے گا ۔۔۔ عشاء نعیم! This is the link: https://pakbloggersforum.org/no-room-for-immorality/