صفحہ اول / بلال شوکت آزاد / لارڈ میکالوی مطالعہ پاکستان سے حقیقی مطالعہ پاکستان تک تحقیقی و تفتیشی جائزہ!!! بلال شوکت آزاد

لارڈ میکالوی مطالعہ پاکستان سے حقیقی مطالعہ پاکستان تک تحقیقی و تفتیشی جائزہ!!! بلال شوکت آزاد



(نوٹ: یہ ایک غیر جذباتی مگر بہت زیادہ تلخ اور کڑوے سوالات اور اظہارات پر مشتمل تحریر ہے, جو برسات کا اندھا ہے اور جسے ہر سو ہرا ہرا ہی نظر آتا ہے وہ بھی نہ پڑھے اور جو کسی بھی طرح کی تقلید اور بھیڑچال کا حصہ ہے وہ بھی دور رہے اور جس کو سچ اور حقیقت جاننے سے قطعی دلچسپی نہیں بلکہ شدید تکلیف ہے وہ بھی وقت ضائع نہ کرے۔ شکریہ)



تاریخ بہت بے رحم اور ظالم ہے, اس کے سینے میں موجود ہزار جھوٹوں کے درمیان بھی ایک ایک حقیقت اور سچ چھپ نہیں پاتا کہ تھوڑا سا روایت اور تاریخ کا باغی انسان اس حقیقت اور سچ کی تلاش کرے تو تاریخ اپنا سینہ کھول کر اس کے سامنے رکھ دیتی ہے اور پھر متلاشیِ حق کو وہ سب معلوم پڑتا ہے جو وہ بچپن اور جوانی تک نصاب تعلیم اور برائے نام اہل علم و دانش سے بلکل متضاد سنتا اور پڑھتا آیا تھا۔

تاریخ کس چیز کو ماضی سے کھینچتی ہوئی حال اور پھر مستقبل میں لاتی ہے جسکی وجہ سے قوم و ملت اور ریاست و مملکت کا نظریہ متوازن نہیں ہوپاتا؟

محرومی, جھوٹی شان و شوکت, شخصیات کا نظریاتی تصادم اور جھوٹی تاریخ کا تسلسل۔ ۔ ۔

اور کیا ہے وہ اصل مسئلہ اور تلخ حقیقت جو تاریخ کے سینے میں محفوظ و مامون دفن ہے پر اہل علم و اہل دانش ہی کیا اہل سیاست و اہل حکومت اور نادیدہ طاقتور فریق بھی اس مسئلے اور تلخ حقیقت کی نمائش قطعی نہیں چاہتے کہ اگر وہ عوام میں عیاں اور نمایاں ہوا تو شاید نظام, ریاست اور حکومت کے بخیئے ادھڑ جائیں؟

مطالعہ پاکستان ہمیں بطور ہماری تاریخ پڑھایا اور سمجھایا جاتا ہے لیکن مجھے حقیقی مطالعہ پاکستان کے مطالعے کا شرف حاصل ہوا جس کے بعد مجھے ہمارے لارڈ میکالوی مطالعہ پاکستان پر شدید تحفظات اور اشکالات لاحق ہوگئے ہیں۔

چلیں آپ کی تاریخ شناسی اور علمیت کا چھوٹا سا امتحان لیتے ہیں۔

—کون جانتا ہے کہ 23 مارچ 1940ء تک تحریک آزادی پاکستان سست روی کی شکار کیوں رہی اور کیوں 1940ء کے بعد یہ اتنی تیز رفتار تحریک بن کر ابھری کہ ہم سات سال میں پاکستان بنا کر دنیا کے نقشے پر آگئے؟

—کوئی ایسا جو یہ بتا سکے کہ قائدآعظم کو اپنے اصولی موقف برائے تقسیم ہند اور مبینہ پاکستانی نقشے جو کل ہندوستان کا 65% سے 75% تھا سے بہت خاموشی کے ساتھ پیچھے ہٹنا پڑا؟

—کوئی یہ بتا سکے کہ قیام پاکستان سے پہلے مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان ایک مسلم کوریڈور کی بھی شق تھی قائدِاعظم کے فارمولا تقسیم ہند میں لیکن اس کا ذکر تاریخ میں گول مول ہے, کیوں؟

—کسی کو ونسٹن چرچل کے نام سے تقسیم ہند کے مبینہ فارمولے چرچل پلان کی خبر ہو؟

—مسئلہ کشمیر کی اصل تاریخ کس کو معلوم ہے؟

—کوئی ایسا جو یہ بتاسکے کہ 23 مارچ 1940ء کے بعد یکدم نواب و رؤسا اور جاگیرداروں کی اچھی خاصی تعداد کیونکر تحریک آزادی پاکستان کا حصہ بنی؟

—کوئی پالش پھانکے بغیر بتاسکے کہ بیوروکریسی, افواج اور حکومتی مشینری میں اوائل شامل ہونے والے اکثریتی افراد کی نیتیں مشکوک اور حریصانہ نہیں تھی؟

—کوئی بعد از آزادی الاٹمنٹ کا فارمولا اور ریکارڈ شیئر کرسکے؟

—کوئی کسی ایسے امیر مسلمان کی کہانی سنائے جو بھارت میں امیر تھا پر سب کچھ لٹا کر پاکستان آیا اور غریب ہوگیا اور تب سے ابتک اسکی نسلیں غربت کی چکی پیس رہی ہیں؟

—کوئی ایسا جو تاریخی شواہد اور اثبات سے یہ ثابت کرسکے کہ لوٹ مار, قتل و غارت, اغوا اور زیادتی جیسے جرائم سے پاکستان کی طرف موجود مسلمانوں کے ہاتھ بلکل صاف ہیں لیکن صرف ہندوؤں اور سکھوؤں کے دامن داغدار ہیں؟

—کون جانتا ہے کہ آزادی کے دنگوں کی بسم اللہ کس نے اور کہاں سے کی تھی اور کیوں کی تھی؟

—کوئی مائی کا لعل محمد علی جناح کے آزادی کے بعد پہلے اور آخری ایک سال 1948-1947ء کو بغیر تعصب اور بے ایمانی کھل کر بیان کرسکے مطلب وہ کس قدر پریشان اور ملول رہے اس بارے بتانے کی ہمت رکھتا ہو تو بتائے وجوہات سمیت؟

—کوئی تاریخی شواہد اور اثبات کے ساتھ ثابت کردے کہ 1947ء کو ہمیں جو آزادی ملی تھی کیا وہ دنیا میں رائج آزادی کی تعریف پر پوری اترتی ہے؟

—کوئی ایسا بندہ جو کہے کہ 1914ء سے لیکر 2000ء تک کا موجود مطالعہ پاکستان دراصل مغالطہ پاکستان نہیں؟

—اچھا کسی کو پتہ ہو کہ خان آف قلات, بگٹی خانوادے اور نواب صادق پنجم عباسی اور کشمیری مسلمانوں کو کیا نظر آیا تھا پاکستان میں کہ وہ شامل ہوئے اور صرف شامل ہی نہیں ہوئے بلکہ اپنی ہر چیز قائدآعظم اور پاکستان پر قربان کردی؟

—کوئی اس پر روشنی ڈالے کہ جو صوبے اور ریاستیں قیام پاکستان سے پہلے ترقی یافتہ, خوشحال اور شاد و آباد اور علمی و ادبی اور تعلیمی میدان جنگ کی ہراول تھیں وہ آج پسماندہ, محرومیوں کا شکار اور تباہ حال کیوں ہیں؟

—قائدِاعظم اور محترمہ فاطمہ جناح کو آخر وہ کونسا تلخ اور کڑوا سچ تقسیم ہند کے بعد جاننے کو ملا جس کی وجہ سے یہ دونوں بہن بھائی جیتے جی زندہ لاش بن گئے اور بس نمائشی کردار کے علاوہ اپنا کوئی خاص کردار ادا نہیں کرسکے قیام پاکستان کے بعد تحریک آزادی پاکستان کی طرح؟

—آخر وہ کونسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے آج صوبائیت اور لسانیت پاکستانیت پر بری طرح حاوی ہوچکی ہے پر مطالعہ پاکستان لکھنے اور مرتب کرنے والے ان کا ذکر کرنے سے ہچکچاتے ہیں؟

—افواج پاکستان کے متعلق عامیوں کی رائے یہ کیونکر بنی اور کب سے بنی کہ عام سپاہی ادنی اور جرنیل اعلی و ارفع ہے, اس کے اصل محرکات جانتا ہے کوئی؟

—فوج اور عوام اور فوج و حکومت کے درمیان باریک سی ہی سہی پر موجود لکیر کی اصل وجہ کیا ہے؟

—احتساب اور باز پرس سے پاکستان کے قیام سے ابتک ہمیں من حیث القوم الرجی کیونکر ہے؟

—موجودہ وسائل کی جمع تفریق ضرب اور تقسیم پر دبا دبا احتجاج اور محرومیت و مظلومیت کا پہلا احساس کب اور کس کو جاگا تھا؟

—سقوط ڈھاکہ کے محرکات اور اصل کہانی کون کون جانتا ہے؟

یہ اور اس جیسے اور ڈھیروں سوالات کا جواب آپ کو حیران اور پریشان کردے گا کہ آپ کو ابتک اپنے حاصل شدہ علم اور دستیاب گیان پر شدید شک و شبہات پیدا ہوجائیں گے اور بغاوت و بیزاریت کا عنصر آپکی یادداشت اور ذہن پر حاوی ہونا شروع ہوجائے گا اور آپ کے لکھے اور بولے ہوئے الفاظ میں تلخی اور کڑواہٹ گھلنا شروع ہوجائے گی۔

آج دیکھا کچھ محب وطن دوست بجٹ 2019-20 کے مضمرات جاننے کے بعد شدید باغیانہ خیالات کا اظہار کررہے ہیں, محرومی اور مظلومی کے پردے میں لپٹی نفرت ان کے لاشعور سے شعور کی طرف سفر کرنے کو بیتاب نظر آئی اور ان کو حب الوطنی کے پاٹھ پڑھانے والوں سے ان کا رویہ تلخ اور روٹین سے ہٹ کر نظر آیا۔

ایسا کیونکر ہوا؟

میں سب نہیں جانتا پر جو کچھ جانتا ہوں اسکی روشنی میں میں ان کا رد نہیں کرسکتا اور نہ ہی انہیں سندِ بغاوت عطاء کرسکتا ہوں اور نہ ایسا چاہوں گا۔

وسائل اور ذرائع کی وصولی اور تقسیم کا فارمولا آج سے نہیں 1947ء سے خراب ہے اور تکلیف دہ امر یہ ہے کہ اس خرابی کو جان بوجھ کر پیدا کیا گیا ہے جس کا تسلسل آج تک جاری و ساری ہے اور یہ تب تک ختم نہیں ہوگا جب تک برٹش راج اور موجودہ سپرپاور امریکہ سے ان کا رد کیا گیا لیکن ہماری طرف سے مستعار لیا ہوا گھٹیا و ناکارہ نظام حکومت اور نظریہ حکومت سمندر برد نہیں کیا جاتا۔

کتنی افسوسناک اور تکلیف دہ صورتحال ہے کہ ہم مساوات اور انصاف کی بات کرتے نہیں تھکتے پر عملاً ہم ان باتوں کے 360 ڈگری الٹ ہیں۔

کیا تعلیم کا حق مانگنا جرم ہے؟

کیا صحت کی سہولیات مانگنا جرم ہے؟

کیا روزگار کے مواقعوں میں برابری مانگنا جرم ہے؟

کیا قانون اور انصاف میں برابری مانگنا جرم ہے؟

کیا محرومیوں اور مظلومیت کی وضاحت کے لیئے بین الصوبائی تقابل کرنا جرم ہے؟

کیا پاکستانیت کوئی جرم ہے کہ جو اس پر کاربند ہے اس کا جینا دوبھر کردیا جائے بلا تفریق و تخصیصِ صوبائیت و لسانیت؟

میں تو 1947ء سے 2000ء تک کیئے گئے سیاسی, عسکری اور مذہبی فراڈز کی تحقیق و تفتیش کے بعد حیران و پریشان ہوں جو بہت سے مسائل کی وجوہات اور تسلسل ہیں تو وہاں پر آئینی ترامیم بطور خاص تیرہویں سے اٹھارہویں ترامیم اور این ایف سی ایوارڈ نامی فراڈی لالی پاپ کو کس طرح نظرانداز اور جان بوجھ کر ہضم کروں؟

ناراض پاکستانی بھائیو خواہ تم بلوچ ہو, سندھی ہو, پختون ہو, کشمیری ہو, بلتی ہو, مکرانی ہو سرائیکی ہو, پہاڑی ہو, مہاجر ہو یا پنجابی ہو؟

جو بھی ہو بہرحال پاکستانی ہو تو تمہارا محرومی اور مظلومیت پر رونا دھونا اور شکوہ کناں ہونا قطعی برا اور معیوب نہیں لیکن میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ اپنے رونے دھونے اور شکوے شکایات میں سے جذباتیت اور لارڈ میکالوی مطالعہ پاکستان کو کھرچ کر نکال باہر کرو اور پوری طرح نظریاتی اور سیاسی جدوجہد کا بول بالا کرو تاکہ جو محرومی اور مظلومیت کا سفر 1947ء کے بعد سے ہمارے آباؤ اجداد نے شروع کیا باامر مجبوری غیرنظریاتی اور ابن غلام افراد کے تابع اور اپنی مشعل سفر ہمیں تمھا کر خود پیچھے رہ گئے اور ہمیں تھپکی دیکر آگے روانہ کردیا اس کا رخ حقیقی سیاسی جدوجہد اور نظریات کی طرف موڑ کر ریس دوبارہ شروع کرو۔

واللہ میرے الفاظ آج بہت سوں کو ناگوار گزریں گے اور بہت سے خوشی کے مارے ناچیں گے لیکن میں اپنے قلم اور علم کے ساتھ ناانصافی نہیں کرسکتا کہ صرف شیریں و من پسند ہی بولوں اور لکھوں۔

میری طرح ذہن کے بند دریچے وا کرنے ہیں تو لارڈ میکالوی مطالعہ پاکستان سے فوراً دستبرداری کا اعلان کریں اور حقیقی نظریاتی انسان ہونے کا ثبوت دیں حقیقی مطالعہ پاکستان کا مطالعہ اور تاریخ کے سینے میں دفن حقائق اور سچائیوں کو تلاش کرکے اور دیگر احباب کو بتاکر۔

یہ نہ تو پرانا پاکستان تھا جہاں ہم بس رہے تھے اور نہ ہی نیا پاکستان ہے جہاں ہم بس رہے ہیں بلکہ پاکستان ابھی تک وہیں پیچھے 14 اگست 1947ء میں ہی کھڑا ہے ہمارا منتظر کہ ہم اسے جانیں اور پہچانیں اور اسکی تلاش میں ان اندھیروں میں جائیں جہاں وہ بیچارہ پہلے ہمارے آباؤ اجداد کا منتظر رہا اور اب ان کی تیسری چھوتھی اور پانچویں نسل کا منتظر ہے۔

پاکستان کو تلاش کرو اور واپس لاؤ تاکہ وہ خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے جو اقبال رح نے دیکھا تھا اور حس کی تعبیر کی خاطر محمد علی جناح نے مرتے دم تک کوششیں جاری و ساری رکھیں۔

واللہ تم پاکستان کو تلاش کرکے واپس لے آؤ میں تمہیں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تمہاری سبھی محرومیوں اور مظلومیت کا ازالہ ہوجائے گا وہ بھی دیکھتے ہی دیکھتے۔

پاکستان کا مسئلہ یہی ہے کہ یہ پاکستان نہیں بلکہ پاکستان نام کا ملک ہے بس اور کچھ بھی نہیں۔

متعلقہ نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

آزادی ۔۔۔۔۔۔ کلام: احمد رئیس

مقبوضہ کشمیر ہو یا آزاد کشمیر ہر شخص جانتا ہے مصرفِ شمشیر زورِ بازو سے …

کشمیر کے موجودہ حالات اور حکومت پاکستان ۔۔۔ ازقلم: ڈاکٹر ماریہ نقاش

آزادی کا متوالا اب خود ہی قید کیوں؟؟؟؟؟ سر سبز و شاداب کشمیر اب سرخ …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: لارڈ میکالوی مطالعہ پاکستان سے حقیقی مطالعہ پاکستان تک تحقیقی و تفتیشی جائزہ!!! بلال شوکت آزاد! This is the link: https://pakbloggersforum.org/pakistan-by-bilal-shoukat-azad/