صفحہ اول / عرفان قیوم / سیاسی لوگ سوشل میڈیا پر سرگرم ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ شعبہ اخلاقیات خطرے میں پڑگیا، ذمہ دار کون؟

سیاسی لوگ سوشل میڈیا پر سرگرم ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ شعبہ اخلاقیات خطرے میں پڑگیا، ذمہ دار کون؟

پاکستان میں دیگر شعبہ جات کی طرح میدان سیاست بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے جس میں عوام کی طاقت بھرپور اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ اس لیے اس محاذ کے سپاہی اپنا ووٹ بنک بنانے کے لیے عوامی رابطہ مہم شروع کرتے ہیں، جس میں جلسے اور ریلیاں منعقد اور پوسٹرز آویزاں کیے جاتے ہیں۔ اپنی پہچان کروانے کے لیے ہر دوکان اور گھر میں پمفلٹ تقسیم کیے جاتے ہیں۔ مزید تسلی کے لیے لوگوں کے سینوں پر سٹیکر اور بیج سجا دیے جاتےہیں۔ گویا کہ ایک بڑی رقم ایوان تک پہنچنے کے لیے صرف ہو جاتی ہےتاکہ کسی طرح کامیابی مقدر بن جائے۔ چونکہ اس میدان کے اُمیدوار ہزاروں کی تعداد میں ہوتے ہیں اس لیے ہر کوئی اپنی اپنی ہمت کے مطابق عوام کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر عوام آزادی رائے کے فلسفہ کے تحت اپنےاپنے پسندیدہ اُمیدوارکی بھر پورحمایت کرتے ہیں اور جس کے ایجنڈے سےاتفاق نہ ہو اسے ووٹ نہ دے کر ریجیکٹ کرتے ہیں۔ اس طرح مسترد امیدوار کو ناکامی سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔لیکن یہ ہارنے والے امیدواربھی کچھ نہ کچھ عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں اگرچہ وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو۔ شاعر کےالفاظ میں

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

اس کارواں میں امیر، غریب ، چھوٹے اور بڑے سب شامل ہیں کیونکہ قوموں کا مستقبل سیاستدانوں کے فیصلوں سے وابستہ ہوتا ہے ۔اس لیےزمانہ قدیم سے ہی سیاست عموماًزیادہ زیربحث رہنے والا موضوع رہا ہےمگر اب اس بحث میں کچھ تیزی سی آگئی ہے سبب کیاہے؟ وہ دن گئے جب لوگ اکھٹے ہونے پر ہی سیاست پر بات کرتے تھے۔ اب فاصلے ختم ہوچکے ہر کوئی ہر وقت رابطے میں رہتا ہے۔ موجودہ دور گلوبل ویلیج کے نام سے پہچانا جانے لگا ہے ۔انٹرنیٹ کی ایجاد کے بعد ڈویلپرز کی بھرپور جدوجہد سے فیس بک ، ٹوئیٹر، واٹس ایپ، انسٹاگرام، ایمو اور یوٹیوب جیسی دیگر رابطے کی ویب سائیٹس اور اپلیکشنز بن چکی ہیں ۔جو کہ پیغام رسانی کا ایک بہترین ذریعہ ہیں۔ جن کے استعمال نے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والوں کی زندگی کو سہل بنا دیا ہے۔ جس سے روپے اور وقت دونوں کی بچت ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے میدان سیاست کے شہسوار بھی ان کے استعمال سے کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے کہا تھا

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

مگر بدقسمتی کا عالم یہ ہے کہ میدان سیاست میں سوشل میڈیا کا استعمال اخلاقیات کے لیے ایک ناسور ثابت ہوتا جا رہا ہے۔ سیاسی اُمیدواروں اور سیاسی پارٹیوں کے نام سے ایسے پیج اور لنکس ملتے ہیں جن پرسیاسی مخالفین پر بھرپور کیچڑ اُچھالا جاتا ہے۔ اُچھالے جانے والے کیچڑ میں شکلوں کا بگاڑنا، جھوٹ کا بولنا، لعن طعن ،گالیاں دینا، اور اُلٹے اُلٹے ناموں سے پکارا جانا جیسی ناپاک حرکات ملتی ہیں۔ حدیث میں آیا ہے۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مرفوعاً روایت ہے
"مومن لعن طعن کرنے والا بدخلق اور فحش گو نہیں ہوتا”۔امام ترمذی نےاسے حسن قراردیاہے( بلوغ المرام:حدیث نمبر۱۲۹۹) ۔

میں خود بھی سوشل میڈیا کا استعمال کرتا ہوں ۔فیس بُک کو چلایا تو ایک صاحب نے ایسی پوسٹ شیئر کی ہوئی تھی جس میں جماعت اسلامی کے صدر سراج الحق صاحب کو "سراجو” اور جمعیت علمائے سلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمن صاحب کو "فضلو ” اور ڈیزل کے نام سے پکارا گیا تھا۔ ماضی قریب میں وزیر ریلوے شیخ رشید صاحب کو شیدا ٹلّی کے نام سے پکارا جاتا رہا اور یہ نام آج تک سوشل میڈیا پر بھی پوری دھوم دھام سے چلتا آرہا ہے۔ مسلم لیگ ن کے ہم خیالوں کو "پٹواری” اور پاکستان تحریک انصاف سے محبت کرنے والوں کو "یوتھیے ” جیسے القاب دیےجاتےہیں۔ قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی میاں شہباز شریف صاحب کو "شوباز شریف ” کے نام سے نوازا گیا ہے اور حال ہی میں ایک حکومتی نمائندے کے گلے میں "ڈبو” کاہار پہنایا گیا ہے۔ دیگر بد عنوانیوں جھوٹ ، لعن طعن ، گالیوں اور شکلوں کا بگاڑنا وغیرہ کی بھی ایک لمبی چوڑی فہرست ہے جن کو تحریر کا حصہ بنانا تو دور کی بات، زبان پر لانا بھی زیب نہیں دیتا ہے۔ اسی لیےصرف ان مثالوں پر ہی اکتفا کرتاہوں ۔ظاہر ہے یہ سب کچھ سیاسی مخالفین کو اذیت اور تکلیف پہنچانے اور پریشان کرنے کے لیے کیا جاتا ہے مگر اپنی عزت تو ہرکسی کو محبوب ہوتی ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا

"دو بُرابھلا کہنے والے جوکچھ کہتے ہیں اس کا گناہ پہل کرنے والے پر ہےتا وقتیکہ مظلوم زیادتی نہ کرے” [مسلم( بلوغ المرام :۱۲۹۶ حدیث)]

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے۔ حضرت ابوصرمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

"جوشخص کسی مسلمان کو تکلیف پہنچائے تواللہ اسے تکلیف پہنچائے گااور جو کسی مسلمان کومشقت میں مبتلا کر دے تو اللہ اسے مشقت میں مبتلا کرے گا”۔ [(ابودائود ، ترمذی) اور اسے حسن قراردیا ہے( بلوغ المرام:۱۲۹۷حدیث)]

ہاں ہاں نظریے سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن نظریے کو آڑ بنا کر کسی کی شخصیت پر حملہ آور ہونا کہاں کی دانائی ہے؟ اس تحریر سے قبل میں”پٹواری اور یوتھیے تک کا سفر” کے نام سے بھی تحریر لکھ چکاہوں جسے پڑھ لینا مناسب ہوگا ۔مگر اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں یا آزاد اُمیدواروں سےاتفاق کرنے والے ان نازیبا پوسٹوں کوپورے جوش و خروش سے شئیر ، لائک اور محبت بھرے کمنٹ کرتے نظر آتے ہیں۔ بلکہ پھر اپنے کیے پر فخر بھی کیا جاتاہے۔ شاعر بشیر بدر نے اسی لیے کہا تھا۔

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی نے اپنی کتاب” اسلام کا نظام حیات ” میں لکھا کہ علامہ سید سلیمان ندوی رحمتہ اللہ علیہ اور علامہ شبلی نعمانی رحمتہ اللہ علیہ سیرت النبیﷺجلد ششم کے صفحہ ۶ پر رقمطراز ہیں : ــ

"اقوام کی ترقی و تہذیب میں اخلاق کی بڑی اہمیت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملت کی تعمیر کا اہم جزواخلاق کی صحیح تربیت ہے”۔

اور اسی طرح ڈاکٹرلیاقت علی خان نیازی نے لکھا

محمد عربی ﷺ نے اخلاق پر درس دیتے ہوئے فرما یا ہے” کہ تم میں سے بہتر وہ ہے جس کا اخلاق بہتر ہے (رواہ البخاری و مسلم) "۔

مگر سچی بات ہے یہاں تو معاملہ ہی بالکل اُلٹ ہو چکاہے۔آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ ہر کوئی دوسرے سے بدلا لینے پر تُلاّ ہواہے۔ خالد ملک ساحل نے کہاتھا۔

ہم لوگ تو اخلاق بھی رکھ آئے ہیں ساحلؔ
ردی کے اسی ڈھیر میں آداب پڑے تھے

بہر حال سوچنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ ہمارے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تعلیم ناپید ہوگئی یا جہالت پروان چڑھ گئی ہے؟ ریاست پاکستان میں تعلیم و تربیت پر ہر سال ایک بڑی رقم خرچ کی جاتی ہے۔ دکھ سے کہتا ہوں کہ یہ رقم ڈوبتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔مزید کہوں تو لگتا ہے کہ شعبہ اخلاقیات خطرے میں پڑ گیاہے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کےلیےاخلاقیات کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں۔اگر کیچڑ اچھالنےوالے صاحبان کی تعلیم و تربیت پر نظر ڈالی جائے تو پتا چلتاہے کہ نفرت انگیز ،اشتعال سے لبریزاور شر کے لباس میں ملبوس پوسٹ کولائک ، محبت بھرے کمنٹ اور شیئر کرنے والےاعلٰی سے اعلٰی تعلیم یافتہ جن میں ڈاکٹرز، پروفیسرز،نامور یونیورسٹیوں کے طالبعلم،مدرسوں کے فاضل حفاظ کرام یا کسی اعلٰی عہدے پر فائزشخصیات ہیں۔بھلے مانس نہیں جانتے کہ سوشل میڈیا پرلگائی جانے والی ان اخلاقیات سے گری پوسٹوں سےگناہ کا ارتکاب تو ہو ہی رہاہے مگر اس سے عوام میں نفرت، بغض، عداوت، دشمنی جنم لے رہی ہے جو کہ نحوست کا باعث ہے۔جبکہ اس امت محمدکو اتحاد کی ضرورت ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا

نحوست ‘ بدخلقی (کی وجہ سے ) ہے۔ [( بلوغ المرام ،حدیث:۱۳۰۸)

ایک طرف اعلٰی سے اعلٰی نصاب اور تعلیمی ادارے جبکہ دوسری طرف نئی نسل کو اخلاقیات سے گر ا ہوا درس دیا جارہاہے۔کون ہے ذمہ دار؟کوئی قانون حرکت میں نہیں آتا کہ اس ناسور کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا جائے ۔اگر آج ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو ہو سکتا ہے کہ ایسے نتائج بھگتنےپڑیں جو شرمندگی کا باعث ہوں۔ شاعر کے الفاظ میں

دھواں جو کچھ گھروں سے اٹھ رہا ہے
نہ پورے شہر پر چھائے تو کہنا

یہ بات ایک اٹل حقیقت ہے کہ عوام ریاست کےلیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتےہیں۔ جن کے جان و مال اور عزت و آبرو کو تحفظ فراہم کرنا حکمران وقت کی ذمہ داری میں شامل ہوتا ہےاوریہ فلسفہ روز اوّل سے تا حال ببانگ دہل اور ڈنکے کی چوٹ کہا جاتاہے۔اگرریاست کے اہم عہدوں پر فائز لوگ اپنی ذمہ داریاں نبھانےسے ناکام رہتے ہیں تو عوام کا حق بنتا ہے کہ ان سےاخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے اختلاف کریں۔اگر مسئلہ حل نہیں ہوتاتو اُن سے جان چھڑائیں اور آئندہ کےلیے مستردکردیں۔ مشہور شاعر رانا نے کہاتھا

ایک آنسو بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے
تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا

مگر تما م تر ذمہ داریاں حکمرانوں پر تھونپ کرعوام کااپنے فرائض سے بری الذمہ ہوجانا بھی درست نہیں ہے۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

گھر کی خاطر

آج میں بہت غمگین تھا کیوں کہ ہم نے بیرونی دباؤ کی خاطر ، ہمیں …

تنظیمی کلچر

زیادہ دن پرانی بات نہیں ایک لنڈے کے کامریڈ سستے انقلابی کو سمجھا رہا تھا …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: سیاسی لوگ سوشل میڈیا پر سرگرم ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ شعبہ اخلاقیات خطرے میں پڑگیا، ذمہ دار کون؟! This is the link: https://pakbloggersforum.org/politics-social-media-and-moral-values/