صفحہ اول / بلاگرز فورم / یہ جو وردی ہے، اس کے پیچھے پیچھے دہشت گردی ہے ۔۔۔ بلال شوکت آزاد

یہ جو وردی ہے، اس کے پیچھے پیچھے دہشت گردی ہے ۔۔۔ بلال شوکت آزاد

یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے پیچھے وردی ہے 

بلال شوکت آزاد

مجھے اس خبر پر نہ حیرت ہوئی اور نہ کسی طرح کا اچنبھا البتہ اس بات پر میں حیران ہوں کہ پی ٹی ایم اب تک اس عمل کی طرف راغب کیوں نہیں ہوئی کہ بر وقت عوام کو ان کی اصلیت پتہ چلتی اور بات کسی ایک نکتے پر ختم ہو جاتی۔

خیر یہ حملہ بظاہر آرمی چیک پوسٹ پر ہے لیکن دراصل اس حملے سے پی ٹی ایم بہت سے شکار بیک وقت کرنے کے فراق میں ہے پر شاید دیر ہو چکی کہ میں پہلے کہہ چکا کہ اس عمل کی جانب راغب ہونے میں پی ٹی ایم کی دیر نے ان کے اس وقت کیے اس جارحانہ عمل کو رائیگاں کردیا ہے۔

بھارتی قونصلیٹ متحرک ہوچکے پی ٹی ایم کی مکمل سپورٹ کے لیے افغانستان سے لیکر یورپ و امریکہ تک اور افغان و مغربی میڈیا جو مہینوں سے پی ٹی ایم کو آؤٹ آف دا وے کوریج دیکر تشہیر کا موقع دے رہا تھا اب کھل کر پاک فوج کے خلاف شدید اور سخت پراپیگنڈا چلانے جارہا ہے جس میں دوبارہ انھی لوگوں کو بولنے کا موقعہ دیا جائے گا جنہیں بیرون ملک بار بار آزمانے کے باوجود وہ کوئی خاص تیر نہیں مار سکے پی ٹی ایم کے پلیٹ فارم سے افغانستان, بھارت, امریکہ اور اسرائیل کے لیے۔

مجھے ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور صاحب کی آخری پریس کانفرنس کے بعد یقین اور انتظار تھا کہ کب پی ٹی ایم ایسا قدم اٹھاتی ہے جس میں عام پختون اور فوج آمنے سامنے آجائے لیکن شاید کچھ دیر ہوگئی, جس میں ایک وجہ اسلام آباد میں زیادتی کے بعد قتل ہوئی بچی فرشتہ کا کیس سامنے آنا تھا۔

کہ پی ٹی ایم کو لگا کہ ہمیں ایک معصوم افغان لاش مل گئی ہے وہ بھی دارلحکومت اسلام آباد سے تو ہم جتنا پریشر ڈویلپ کرسکتے ہیں کرلیں اور عوام کو ایک داخلی قانونی واقعہ کی آڑ میں گھیر کر فوج کے مد مقابل لے آئیں اور اس خانہ جنگی کی بنیاد ڈال دیں جس میں ان سے پہلے ٹی ٹی پی والے ناکام ہو گئے اور بری طرح پٹ کر واپس مالکان کی گود میں جا بیٹھے۔

گلا لئی اسمعیل اور محسن داوڑ کا فرشتہ قتل کیس کی آڑ میں فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنا نئی بات نہیں تھی پر اس دفعہ ان کی حرکت میں شدت کے ساتھ یہ عنصر غالب نظر آیا کہ "آر یا پار”, مطلب اب عوام بالخصوص ان کی حامی پختون عوام کو جتنا مینیوپلوٹ کیا جاسکتا ہے فوج کے خلاف کیا جائے اور حالات اس نہج پر لائے جائیں کہ ان کے حامیان بندوق اٹھا کر فوج کی تنصیبات کا رخ کریں اور وہ سلسلہ دوبارہ شروع کریں جو ٹی ٹی پی کی سرکوبی کے بعد تھم گیا تھا۔

اسلام آباد کی شاہراہوں پر ناکامی اور عوام کے اشتعال کو دیکھ کر محسن داوڑ نے آج ریڈ لائن کی بھی بارڈر لائن کراس کرنے کی ٹھانی کہ اس کے بیرونی آقا مسلسل اس کی ناکامیوں کے بعد اس کو ری پلیس کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں کہ اسی ہفتے میں وزارت داخلہ سے پی ٹی ایم کو سیکیورٹی اپڈیٹ دیا گیا تھا ایجنسیوں کی رپورٹ کے تناظر میں کہ این ڈی ایس اور را جلد ہی پی ٹی ایم کی کور کمیٹی اور رہنماؤں کو نشانہ بنا سکتے ہیں لہذا اپنی سیکیورٹی کا بندوبست کرلیں, اسی تھریٹ الرٹ کی وجہ سے محسن داوڑ, گلالئی اسمعیل, علی وزیر اور منظور پشتین کو یہ سوجھ رہا ہے جو وہ کرتے پھر رہے ہیں کہ جتنا ہوسکے یہ سب مین سٹریم نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا کی زینت بنے رہیں اور ان کی پراپیگنڈا مشینریاں چلتی رہیں۔

اس وقت دشمن کا وار بلکل سیدھا اور براہ راست ہے کہ وہ پاکستان کو ففتھ جنریشن, ہائبرڈ وار اور انفارمیشن وار فیئر میں بلکل وقفہ اور گنجائش دینے کو تیار نہیں بالخصوص ایکٹو لسانی جماعتوں اور مسلکی گروہوں کی آڑ میں مہرے ہلا کر۔

اس وقت محب وطن ایکٹوسٹس ہونے کے ناطے ہمیں ارد گرد پوری نظر رکھنی ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کے سلیپر سیلز یکدم ایکٹو ہونگے اور پاک فوج کے خلاف من گھڑت کہانیاں اور پراپیگنڈے آن کی آن میں پھیلائے جائیں گے تاکہ عالمی رائے عامہ پاکستان کے خلاف تیار ہو سکے۔

محسن داوڑ اور علی وزیر نے یہ داؤ بہت سوچ سمجھ کر اور مکمل پلاننگ کے ساتھ کھیلا ہے تاکہ ایک افراتفری مچ جائے اور یہ لوگ فرشتہ مرڈر کیس کے بعد اصلی نسلی پختونوں کے جس عتاب کا شکار ہونے جا رہے تھے اور جس طرح انھوں نے ریاست کو للکار کر اپنی شامت بلائی تھی, اس سے فی الوقت کسی اور طرف موڑ کر اپنی جان خلاصی بھی کروا لیں, بیرونی آقاؤں کو بھی راضی کر لیں اور حامیان سمیت ناراض پختونوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوجائیں کہ

"یہ جو دشتگردی ہے, اس کے پیچھے وردی ہے”۔

لیکن میں پورے وثوق سے بتاتا چلوں کہ دراصل

"یہ جو وردی ہے, اس کے پیچھے پیچھے دہشتگردی ہے”۔

مطلب اس وقت دوبارہ پھر سے "وردی” کو "دہشتگردی” کا شکار بنانے کی کوشش ہے تاکہ جس طرح ٹی ٹی پی کے دور میں "وردی” پہننا جرم بنا تھا اور "وردی والوں” کو "دہشتگردی” کی بھینٹ چڑھایا جاتا تھا بالکل اسی طرح دوبارہ "وردی” کے پیچھے ہاتھ دھو کر لسانی دہشتگرد پڑ گئے ہیں تاکہ "وردی” پہننا ایک بار پھر جرم بن جائے۔

لیکن بس, اب کی بار ان شاء ﷲ ہم ان اندرورن و بیرون اور دیدہ و نادیدہ دشمنوں کا یہ وار کامیاب نہیں ہونے دیں گے جس کو بڑی محنت سے ہم ایک بار ٹکر دے چکے اور اب دوبارہ یہ یہی حرکت کریں گے تو پھر جواب ہم بھی شدید اور سخت دیں گے۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

گیم آف تھرونز

"گیم آف تھرونز” (تخت کے کھیل) سے میں نے یہ سیکھا بلکہ سمجھا کہ ہر …

اسلامی معاشرے کی ترجیحات اور ہمارا رویہ

اسلام نے اسلامی معاشرے میں کس بات کو فوقیت دی ہے؟ امن عامہ اور اخوت …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: یہ جو وردی ہے، اس کے پیچھے پیچھے دہشت گردی ہے ۔۔۔ بلال شوکت آزاد! This is the link: https://pakbloggersforum.org/ptm-attacks-on-army-check-post-bilal-shoukat-azad/