صفحہ اول / بلاگرز فورم / پی ٹی ایم، ٹیپو سلطان اور میرا پاکستان ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

پی ٹی ایم، ٹیپو سلطان اور میرا پاکستان ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

میسور کی سلطنت انگریزوں سے محو جنگ ہے۔ سلطان ٹیپو سرنگا پٹم میں موجود ہیں۔ بارشوں کا موسم شروع ہونے والا ہے۔انگریز فوج سرنگا پٹم کے راستے میں آنے والے دریا کے دوسرے پار موجود ہے.

سلطان ٹیپو اپنے محل میں موجود ہیں اور سرنگا پٹم یا یوں کہیے ہند کے مسلمانوں کے اوپر منڈلاتے خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ سلطان معظم کا ہر سپاہی ایمان کے جذبے سے سرشار ہے۔ سلطان کے سامنے صرف ایک قوت ہی نہیں ہے بلکہ ان کا سامنا دو قوتوں سے ہے۔ ایک قوت وہ جو مغرب سے مشرق میں لوٹ مار کرنے کے لیے آئی ہے اور دوسری وہ جو صرف اپنے مفاد کو مدنظر رکھ رہی ہے۔ جو ہندوستان کے مسلمانوں کے مستقبل کو تو پہلے ہی بیچ چکی تھی اب اہنے دین و ایمان کو بیچ رہی ہے۔ وقت کی اس سے بڑی ستم ظریفی کیا ہوگی کہ یہ قوت بھی مسلمانوں کی قوت ہے۔

ذرا تصور کیجیے کہ چشم ِفلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے خلاف لڑ رہا ہو اور جس کی خوشنودی کیلیے لڑ رہا ہے وہ کافر ہے…. !
سلطان معظم بذات خود ایک نڈر حکمران تھے۔ وہ صرف ایک ذات سے ڈرتے تھے…. اللہ کی ذات سے۔ انہوں نے انگریزوں کے ساتھ فیصلہ کن جنگ کے لیے تیاریاں شروع کیں۔ سلطان معظم کی ریاست کے سپاہی بھی ہمت، غیرت اور جرات کی اعلیٰ مثال تھے۔ سلطان ٹیپو کے سپاہیوں میں محمد بن قاسم کے لشکر کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ یہ وہ سپاہی تھے جو کئی محاذوں پر کفر کو شکست دے چکے تھے۔ یہ اپنے لیے شہادت اور اسلام کے لیے فتح سے بڑھ کر کوئی خواہش نہیں رکھتے تھے. لیکن اس بار محمد بن قاسم کا یہ لشکر جنگ میں تنہا نہیں بلکہ سرنگا پٹم کے عوام بھی اپنے جان و مال ہتھیلی پر رکھ کر ان کے ساتھ اور انگریزوں کے خلاف لڑ رہے تھے۔

انگریز یہ امر بخوبی جانتے تھے کہ سلطان معظم کو شکست دینا آسان نہیں۔ چنانچہ انہوں نے سرنگا پٹم میں ملت فروشوں کو تلاشنا شروع کیا اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوگئے۔ میر معین الدین، میر قمر الدین میر صادق اور پورنیا کی صورت انہیں ابن الوقت مل چکے تھے۔

انہوں نے چال ایسی چلی کہ سلطان معظم کے شیر دل کمانڈر غازی خان کو شہید کروا دیا۔ اب سلطان کے پاس ایک ہی محبِ وطن اور وفادار سالار رہ گیا جس کا نام سید غفار تھا۔

۴ مئی کے طلوع آفتاب کے ساتھ سرنگا پٹم کی عزت کا آخری سورج طلوع ہوا۔ غداروں کی غداری کی وجہ سے سرنگا پٹم کی حفاظتی دیوار کے ایک حصے کی طرف انگریزوں نے پیش قدمی شروع کی۔ سید غفار بھی اسی حصے پر انگریزوں کی توپ کے گولے کی زد میں آ کر شہید ہو گئے تھے۔ اب فیصلہ کن جنگ یک طرفہ تھی۔

چشم فلک نے ایک اور منظر دیکھا جب ایک حکمران اپنے سپاہیوں کے ساتھ لڑ رہا تھا ۔سلطان ٹیپو میدان جنگ میں موجود تھے۔ انہیں ایک گولی لگی مگر وہ لڑتے رہے۔ انہیں دوسری گولی لگی مگر وہ پھر بھی لڑتے رہے جبکہ تیسری مرتبہ جب ان کی کنپٹی پر انگریز نے گولی ماری تو وہ شہادت پا گئے اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کی آذادی کا سورج غروب ہوا۔

یہ وہ مناظر ہیں جو میں کل کی طرف دیکھوں تو میری آنکھیں مجھے چشم تصور میں دکھلاتی ہیں۔ میں آج کی طرف دیکھوں تو میری آنکھیں مجھے میسور جیسی ایک اور ریاست دکھاتی ہیں…. جسے دنیا پاکستان کہتی ہے۔ جس طرح میسور کی ریاست کفر کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چھبتی تھی اسی طرح یہ ریاست انہیں کھٹکتی ہے۔ جس طرح میسور کی ریاست کے لوگ تھے اسی طرح اس ریاست میں محب وطن لوگ ہیں۔ جس طرح میسور کی ریاست ہندوستان کے مسلمانوں کی محافظ تھی اسی طرح یہ ریاست پورے عالم اسلام کی محافظ ہے۔ جس طرح میسور کی ریاست کے سپاہی ایمان کی قوت سے مالا مال تھے اسی طرح اس ریاست کے سپاہیوں کے دل بھی ایمان کے نور سے فروزاں ہیں۔
لیکن کتنے دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ جس طرح میسور کی ریاست کے اندر غدار تھے اسی طرح اس ریاست کے اندر بھی غدار پائے جاتے ہیں۔

26 مئی 2019 کو ہونے والا واقع اس ریاست کے باسیوں کیلیے ایک سبق ہے۔ پی-ٹی-ایم کے ممبر قومی اسمبلی کا اپنے ساتھیوں کے ساتھ پاک فوج کی چوکی پر حملہ ان کی غداری کا منہ بولتا ثبوت ہے.

یہ اللّٰہ کا اس ریاست کے باسیوں پر احسان ہے کہ اس نے ان پر غدار ظاہر کر دیے۔ ورنہ یہ ریاست اب بھی حالت جنگ میں ہے۔ ریاستی ادارے دہشت گردی اور کرپٹ مافیا کے خلاف محو جنگ ہیں۔ ایسے میں غدار اس ریاست کے لیے سنگین خطرہ ہوسکتے ہیں ۔ افواج پاکستان پر پی ٹی ایم کا یہ پہلا حملہ نہیں، البتہ پی-ٹی-ایم کے رہنماؤں کا از خود فعلی حملہ ہے۔میں ان سب کو میر صادق،میر معین الدین، میر قمر الدین اور پورنیا سے تشبیہ دینا غلط خیال نہیں کرتا۔

اے اہل پاکستان!

اپنے وطن کے غداروں کو پہچان! اس سے پہلے کہ یہ اپنی جڑیں مضبوط کرلیں۔ ان غداروں کو عبرتناک سزائیں دو تاکہ آئندہ کوئی تمہارے ساتھ غداری کا سوچ نہ سکے۔ یہ وقت سب پشتونوں، پنجابیوں، سندھیوں اور بلوچیوں کے اکٹھا ہونے کا ہے۔ اپنے منہج اور اقبال کے وژن پر واپس آجاؤ۔ پی-ٹی-ایم کو اس ارض پاک سے مٹا دو۔ ان کو آن کے انجام تک پہنچاؤ۔
اللہ پاکستان کا حامی و ناصر۔
پاک فوج زندہ باد
پاکستان پائندہ باد۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

نومبر کا پہلا ہفتہ تحریک آزادی جموں کشمیر کا ایک خونچکاں باب اور ہندو دہشت …

اردو، اک لمحہ فکریہ ۔۔۔ تحریر : غلام فاطمہ

بلاشبہ ہماری قومی زبان اردو کی بے وقعتی ہمارے لئے ایک لمحہ فکریہ سے کم …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: پی ٹی ایم، ٹیپو سلطان اور میرا پاکستان ۔۔۔ محمد طلحہ سعید! This is the link: https://pakbloggersforum.org/ptm-tipu-sultan-or-mera-pakistan/