صفحہ اول / انیس الرحمٰن باغی / سوشل میڈیا رجحانات، انسانی فطرت اور ہماری ذمہ داریاں ۔۔۔ تحریر: انیس الرحمن باغی

سوشل میڈیا رجحانات، انسانی فطرت اور ہماری ذمہ داریاں ۔۔۔ تحریر: انیس الرحمن باغی

  1.  انسان اپنی فطرت میں بڑا متنوع مزاج ہے۔ بہت تھوڑی دیر تک کیلئے کسی بھی کیفیت کو اپنے اوپر مکمل طور پر طاری کر سکتا ہے۔ چاہے وہ انتہائی غم میں ہو یا شدید ترین خوشی میں وہ انتہائی کیفیت کسی بھی شخص پر مختلف دورانیہ کیلئے طاری رہ سکتی ہے اور بلآخر وقت کے ساتھ انسان اس کیفیت سے باہر نکل کر معمول کی کیفیت میں آ جاتا ہے۔

کشمیر کہ جس میں آج کرفیو کو پچاس سے زائد دن گزر چکے ہیں۔ ہر شخص، ہر جگہ، ہر پلیٹ فارم پر کشمیر موضوعِ بحث ہے اور ہر پیر و جواں مرد و خاتون کشمیر کی موجودہ صورتِ حال کے حوالہ سے متفکر ہے۔ شاید ہی کوئی مجلس قبل اس کے کہ اپنے اختتام کو پہنچے اور اس میں کشمیر کا ذکر نہ ہو۔

بالکل اسی طرح سوشل میڈیا کا بھی حال ہے۔ ہر سو کشمیر ہی کشمیر ہے۔ اور کوئی وقت ایسا نہیں کہ جب اس یہ ایشو زیرِ بحث نہ ہو اب میں آتا ہوں اپنی تمہیدی بات کی طرف کہ انسان کسی کیفیت کو اپنے اوپر ہر وقت طاری نہیں رکھ سکتا وہ تنوع کا شوقین ہے اور ایسے میں اگر اسے کوئی ایسا کام یا موضوع مل جائے جو کہ دلچسپی کا حامل ہو تو وقتی طور پر انسان اس کی طرف کچھ زیادہ ہی مائل ہو جاتا ہے لیکن یہ نہیں ہوتا کہ انسان کے دل و دماغ سے اس غم اور خوشی کے نقوش کو مٹا سکے۔

اسلیے انسان اس وقتی تفریح میں دلچسپی لیتا ہے لیکن اس کو اپنے اوپر مسلط کر کے اس میں کھو نہیں جاتا۔ تو کشمیر کے مسئلہ کے ساتھ بھی ہر پاکستانی کی یہی کیفیت ہے کہ وہ چاہے کسی بھی دلچسپی یا تفریح میں مشغول ہو جائے اس کے دل و دماغ سے کشمیر کو نہیں مٹایا جا سکتا۔

کشمیر ہمارے دل و دماغ میں رچا بسا ہے کوئی طاقت اس کی محبت کو محو نہیں کر سکتی۔ ایسے میں ہم وقتی طور پر صلاح الدین اور پنجاب پولیس کو لیکر ہم آواز اٹھائیں یا مینڈکوں کی شامتِ اعمال آئی ہو۔ یہ مسائل صرف وقتی دلچسپیاں ہو سکتے ہیں ہلکی پھلکی تفریح یا طبیعیت کا تنوع تو ہو سکتے ہیں لیکن ایسی کوئی مستقل کیفیت یا منہج نہیں کہ ہم ان کو لیکر یہ ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیں کہ ڈڈو اور صلاح الدین سے ففتھ جنریشن وار فیئر کو خطرہ ہونا شروع ہو جائے اور ہم یہ راگ الاپنا شروع کر دیں کہ ان ایشوز نے مسئلہ کشمیر کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔

کیا کشمیر سے محبت ہماری اتنی ہی عارضی اور کچے دھاگے کی مانند ہے کہ یہ معمولی چیزیں اسے ہمارے دلوں سے نکال دے؟؟؟ نہیں بھئی کشمیر ہماری رگ میں دوڑتے لہو کی مانند ہے۔ او دانشوارانِ وقت عوام کو ذرا تفریح بھی لینے دیا کریں کہ وہ پھر سے تازہ دم ہو کر اپنے اصل مقصد کی طرف گامزن ہو سکیں۔ یونہی ہر وقت لٹھ لیکر اس معصوم عوام کے پیچھے نہ پڑ جایا کریں۔ ساری عوام دانشور نہیں کہ آپ کی طرح ہر وقت خاص موضوعات پر ہی سوچیں اور باتیں کریں۔ عوام سے عوامی باتوں کی ہی توقع کریں۔ اور اس ففتھ جنریشن وار کو ہر وقت اپنے اوپر سوار نہ ہی کیا کریں۔

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: سوشل میڈیا رجحانات، انسانی فطرت اور ہماری ذمہ داریاں ۔۔۔ تحریر: انیس الرحمن باغی! This is the link: https://pakbloggersforum.org/social-media-fun-and-responsibilities/