صفحہ اول / جویریہ چوہدری / ادب کی باتیں۔۔۔۔ !!! بقلم: جویریہ چوہدری

ادب کی باتیں۔۔۔۔ !!! بقلم: جویریہ چوہدری

خوشگوار و کامیاب زندگی گزارنے کے لیے سفر حیات کے آداب سے آگاہی بھی بے حد ضروری ہے۔۔۔

اسلام ایک بہترین طرز زندگی ہمیں مہیا کرتا ہے۔۔۔۔۔قرآن و احادیث رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی روشنی ہمارے راستوں کو منور کرنے کے لئیے بہترین نمونہ ہے۔۔۔۔
ایسی کامل و اکمل تعلیم و تربیت کوئی اور مذہب دنیا میں فراہم نہیں کرتا۔۔۔۔۔جتنے آداب زندگی اسلام ہمیں سکھاتا ہے۔۔۔۔
مگر افسوس کہ ہمارا
عمل جس سے نہیں شناسائی ہمیں۔۔۔۔؟؟؟؟
والا معاملہ ہے۔۔۔۔!!!!!!!!!
ہماری زندگیاں تبھی سکون سے خالی۔۔۔۔اور ادب و احترام کی رسمیں معدوم ہوتی چلی جارہی ہیں۔۔۔۔!!!!!!!
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
"رحم کا قطع کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔”
رحم سے مراد رشتے داریاں ہیں۔۔۔۔مگر ہم ان رشتہ داریوں کو آج کتنا نباہ رہے ہیں۔۔۔۔؟

ہم میں سے ہر کوئی اپنے گریبان میں جھانک کر بخوبی جائزہ لے سکتا ہے۔۔۔۔رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"جس کو روزی کا کشادہ ہونا اور عمر کا زیادہ ہونا اچھا لگے:
فَلیَصِل رَحِمَہُ۔۔۔تو وہ اپنے رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے”۔۔۔

ابو ایوب انصاری رضی اللّٰہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ کے پاس ایک شخص نے عرض کی کہ یا رسول اللّٰہ!
مجھ کو ایسا عمل بتلایئے جو مجھ کو بہشت میں لے جائے۔۔۔۔؟؟؟
لوگ کہنے لگے اس کو کیا ہو گیا ہے۔۔۔؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اس کو ضرورت ہے اس کی۔۔۔۔
پھر فرمایا:
اللّٰہ کی عبادت کر اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر۔۔۔نماز ادا کر۔۔۔۔اور زکوۃ دے۔۔۔اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کر۔۔۔۔۔!!!!!
(یہ چیزیں تجھے جنت میں لے جائیں گی)
راوی کہتے ہیں کہ اس وقت آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اونٹنی پر سوار تھے۔۔۔

انس بن مالک رضی اللّٰہُ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آیا وہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے ملنے کا ارادہ رکھتا تھا،لوگوں نے اسے راستہ دینے میں دیر لگائی۔۔۔۔
نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"وہ ہم میں سے نہیں جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کی عزت نہ کرے۔۔۔۔”
(رواہ الترمذی _کتاب البر والصلۃ)۔

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالی عنھا فرماتی ہیں کہ
ایک عورت میرے پاس آئی اور اس کے ساتھ دو بیٹیاں بھی تھیں۔۔۔
میرے پاس کچھ نہیں تھا کہ سوائے ایک کھجور کے۔۔۔
میں نے وہی اسے دے دی۔۔
اس نے دو ٹکڑے کیۓ اور اپنی بیٹیوں کو دے دیئے۔۔۔۔پھر اٹھ کر چلی گئی۔۔۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے پاس تشریف لائے تو میں نے یہ بات آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بیان کی۔۔۔
تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"جو شخص ان بیٹیوں کے ذریعے آزمایا جائے پھر ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو وہ اس کے لئیے آگ سے بچاؤ بن جائیں گی۔۔۔۔”

ہمارے معاشرے میں بیٹیوں کے ساتھ نا انصافی اور حقوق تلفی عام ہوتی ہے۔۔۔۔
جائداد و وراثت کے معاملات میں بیٹیوں کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔۔۔۔
جبکہ پیارے نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس معاشرے میں خوشبو کے رنگ بکھیرتے ہوئے ان بیٹیوں کے ساتھ اچھے سلوک کو جہنم کی آگ سے بچاؤ کا سبب بتا رہے ہیں۔۔۔۔اللّٰہ اکبر
پھر کئی ناسمجھ لوگ صرف بیٹیوں کی ہی پیدائش پر بھی ناک بھوں چڑھائے نظر آئیں گے۔۔۔۔
بلکہ والدین پریشان ہوں نہ ہوں۔۔۔۔
سوسائٹی کے فضول تبصرے دل جلا دیتے ہیں کہ
ہائے بیچارے کی اتنی بیٹیاں ہی تو ہیں۔۔۔۔بیٹا نہیں۔۔۔۔
ایسوں سے کون پوچھے کہ کیا بیٹیاں اولاد میں نہیں۔۔۔؟
کیا بیٹوں کا رزق اللہ دیتا اور بیٹیوں کا رزق کیا ان لوگوں کے ذمہ ہے؟؟
جو فضول گوئی کے مفت میں مرتکب ہوتے ہیں۔۔۔۔!!!!!
پیارے نبی اپنی نواسی امامہ بنت زینب کو کندھے پر اٹھائے آئے اور نماز پڑھانا شروع کی،
جب رکوع کرتے تو انہیں زمین پر بٹھا دیتے اور جب سجدے سے فارغ ہوتے تو پھر اٹھا لیتے۔۔۔۔
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے رونے کی آواز سن کر نماز مختصر کر دیتے کہ کہیں بچے کی ماں کو تکلیف نہ ہو۔۔۔
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالی عنھا فرماتی ہیں کہ:
"آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک بچہ(عبداللہ بن زبیر) کو اپنی گود میں بٹھایا،
کجھور چبا کر ان کے منہ میں دی۔۔۔ انہوں نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا،
تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر بہا دیا۔۔”
کوئی غصہ نہیں بلکہ تربیت فرما دی۔۔۔

آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے معاشرے کے یتیم بچوں کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا:
"کہ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اسطرح قریب ہوں گے۔۔۔۔آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انگلیوں کے اشارے سے بتلایا۔۔۔۔
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہوئے۔۔۔
ہم بھی آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے،،
اتنے میں ایک گنوار نماز میں ہی دعا مانگنے لگا۔۔۔
یا اللہ!
مجھ پر رحم کر اور محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر اور کسی پر مت رحم کر۔۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر کر اعرابی سے فرمایا
تو نے اللّٰہ کی کشادہ رحمت کو تنگ کر دیا ہے۔۔۔!!!!!!!!

آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جو رحم نہیں کرتا،اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔۔۔”

آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نےتین مرتبہ فرمایا:
"وہ شخص مومن نہیں جس کی شرارتوں سے اس کا ہمسایہ محفوظ نہیں۔۔۔”
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالی عنھا نے پوچھا
میرے دو ہمسائے ہیں۔۔۔پہلے کس کو حصہ بھیجوں؟
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا
جس کا دروازہ تجھ سے زیادہ نزدیک ہو۔۔۔”

آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اتقو النار ولو بِشَقِّ تمرۃِِ
دوزخ سے بچنے کی کوشش کرو چاہے کجھور کا ایک ٹکڑا ہی دے کر۔۔۔۔
فَاِن لم تجد فبکلمۃ طیبۃ۔۔۔۔
اور اگر یہ بھی میسر نہ ہو تو اچھی بات ہی کہہ کر آگ سے بچنے کی کوشش کرو۔۔۔۔!!!!!!!

پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو جب غصہ آتا تو فقط اتنا کہہ دیتے۔۔۔۔۔
مَا لَہُ۔۔۔۔۔تَرِبَ جَبِینُہُ۔۔۔؟؟؟
اسے کیا ہو گیا ہے۔۔۔۔اس کی پیشانی کو خاک لگے۔۔۔۔۔؟؟؟؟
قربان جاؤں رحمت اللعالمین کی ارفع تعلیمات پر۔۔۔۔
ہمیں غصہ آ جائے تو جب تک فریق مقابل کی پشتیں نہ نکال لیں۔۔۔۔سکون نہیں پاتے۔۔۔۔؟
ایسا ہی ہے ناں۔۔۔۔؟؟؟؟

آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا
پہلوان وہ نہیں جو کشتی میں غالب ہو بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصے میں اپنے آپ کو تھامے رہے۔۔۔۔
ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللّٰہ!
مجھے کچھ نصیحت فرمایئے!
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"غصہ مت کیا کر۔۔۔۔۔آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بار بار یہی دہراتے رہے۔۔۔

آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جو شخص اللہ پر اور یوم قیامت پر یقین رکھتا ہو،
اسے چاہیئے کہ مہمان کی خاطر داری کرے۔۔۔۔ایک دن رات تو مہمانی لازم ہے۔۔۔۔اور تین دن تک افضل ہے۔۔۔۔اس کے بعد صدقہ ہے۔۔۔۔اور مہمان کے لئیے بھی جائز نہیں کہ میزبان کے پاس پڑا رہے اور اسے تنگ کر ڈالے۔۔۔۔

کبھی کہا:
"جو شخص اللہ پر اور یوم قیامت پر یقین رکھتا ہو ، اسے چاہیئے کہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔۔۔۔”

پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
"جب کوئی تم میں سے چھینکے تو الحمدللہ کہے۔۔۔۔اور جسے جمائی آئے تو وہ اسے جہاں تک ہوسکے روکے۔۔۔۔”۔

آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ابو موسیٰ اشعری اور معاذ بن جبل رضی اللّٰہ تعالی عنھما کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا:
دیکھو!
لوگوں پر آسانی کرتے رہنا،،،
سختی نہ کرنا۔۔۔۔
خوش کرنا۔۔۔۔
نفرت نہ دلانا اور دونوں مل جل کر رہنا۔۔۔۔۔
ابو موسیٰ نے کہا یا رسول اللّٰہ!
ہم جس زمین میں جاتے ہیں وہاں شہد کا شراب بنتا ہے،
جَو کا شراب بنتا ہے۔۔۔۔
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا
کل مسکرِِحرام۔۔۔۔”جو نشہ کرے وہ سب حرام ہے۔”
ایک شخص رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میرےصبح کی نماز میں نہ آنے کی وجہ امام کا لمبی نماز پڑھانا ہے۔۔۔۔۔یعنی لمبا قیام۔۔
تو
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے غصہ سے فرمایا
لوگو!
تم میں سے بعض لوگ یہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کی دین سے نفرت کرا دیں۔۔۔۔؟؟؟؟
تو جو کوئی نماز پڑھائے تو ہلکی نماز پڑھائے کیونکہ نمازیوں میں کوئی بیمار ہوتا ہے۔۔۔۔۔
کوئی بوڑھا ضعیف۔۔۔۔
اور کوئی کام کاج اور ضرورت والا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!(صلی اللّٰہ علیہ وسلم)۔۔۔ !!!!!
اللّٰہ تعالی ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق دے۔۔۔۔آمین۔۔۔۔ !!!!

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

نوائے اقبال شرح بانگِ درا (ہمالہ بند 6)

آتی ہے ندّی فرازِ کوہ سے گاتی ہوئی کوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی …

نوائے اقبال شرح بانگِ درا (ہمالہ بند 5)

جنبشِ موجِ نسیم صبح گہوارہ بنی۔۔۔ا جھومتی ہے نشہء ہستی میں ہر گل کی کلی۔۔۔! …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: ادب کی باتیں۔۔۔۔ !!! بقلم: جویریہ چوہدری! This is the link: https://pakbloggersforum.org/something-about-the-art-of-life/