صفحہ اول / عثمان عبدالقیوم / ففتھ جینریشن وار فئیر کے شہید سپاہی سید غوث اللہ آغا

ففتھ جینریشن وار فئیر کے شہید سپاہی سید غوث اللہ آغا

سکول میں پڑھایا جاتا ہے، یوم پاکستان ہو یا آزادی یہ شعر گائے جاتے ہیں اور خصوصا یوم دفاع و شہداء پر ملک کے کونے کونے پر بڑے بڑے بینرز آویزاں کیے جاتے ہیں۔

” شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے”

ایک جگہ لفظ شہید پر بات ہو رہی تھی ایک صاحب سوال کرنے لگے کہ جیسے ہم لوگ اس کو شہید کہتے ہیں جو رب کی رضا میں جان دینے والے کو کہتے ہیں پوچھنے لگا کہ دنیا کے ہر ملک میں شہیدوں کے نام پر یادگاریں ہیں، سڑکیں ہیں، پارک ہیں، ان کی قربانی کو یاد کیا جاتا ہے، ان کا بھی احترام کیا جاتا ہوگا راقم نے یوں جواب دیا انکا احترام دنیا کے ہر مذہب و ثقافت ایسے ہی کیا جاتا ہے جیسے مقدس صحیفوں کا۔ مجھے یقین ہے کہ شہید کے متبادل دنیا کی ہر زبان، ہر مذہب اور ہر تہذیب میں موجود ہوں گے کیونکہ ہر قوم کو اپنی بقا کے لیے اور ہر تحریک کو اپنی نمود کے لیے ایسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو اپنی جان کا نذرانہ پیش کریں، یقینی موت کے طرف لپکیں اور اپنی زندگی دے کر قوموں کو اور تحریکوں کی نظریات کو دوام بخشیں۔ اسی اثناء میں پاکستان کے شہیدوں کا تذکرہ شروع ہوا اے پی ایس ہو یا پولیس کے جوانوں کا یا پھر فوج اور ہزاروں گمنام شہیدوں کے تذکرے ہو رہے تطے اچانک بلوچستان کے والے عظیم بیٹے کی سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ ہو گیا انکی شجاعت اور بہادری کی باتیں چل رہیں تھیں کہ اتنے میں خبر ملی کہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والا پاکستان کا ایک اور بیٹا *سید غوث اللہ آغا* جس کو پی ٹی ایم اور این ڈی ایس کی غنڈہ گردی، دہشت آلود درندوں نے آزادی کے دن 14 اگست کو اغوا کیا اور نا جانے کتنے ظلم و جبر کے پہاڑ تھوڑے ہوں گے انکی درندگی کا شکار ہو کر موت کی وادی میں چلا گیا اور اج افغان سرحد کے قریب قلعہ عبداللہ سے اس غیور بیٹے کا جسد خاکی ملا اور معلوم ہوا پاک دھرتی کی حفاظت کرنے والوں میں اسے ایک نام شہر خاموشاں میں داخل ہوگیا اور بیٹا اس ملک پر جان قربان کر گیا۔
سوچ رہا تھا اس کا جرم کیا ہوگا معلوم ہوا سوشل میڈیا نامی ایک بلا ہے جہاں وہ اپنے قلم سے اپنے موبائل سے پی ٹی ایم، بلوچ لبریشن آرمی سمیت ان تمام ملک دشمنوں کے خلاف برسرپیکار تھا پاکستان کا سرفروش مجاہد بن کر اور سچا بیٹا بن کر اپنی دھرتی ماں سے بے پناہ محبت کا سبق سکھاتا تھا آزاد بلوچستان کی بجائے پاکستان کا نعرہ بلند کرتا تھا بھارت کے ٹکڑوں پے پلنے والے ملک دشمنوں کی تراغیب کو رد کر نوجوانوں میں پاکستان زندہ باد پاکستان آرمی زندہ باد کے جذبے جگاتا تھا شہید غوث اللہ وہ مرد مجاہد تھا جو سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کے رستے پر چلتے ہوئے بلوچستان میں بدترین حالات میں بھی پاکستان کا جھنڈا سربلند رکھا۔
غوث اللہ شہید ففتھ جینریشن وار کا سچا اور محب وطن سرفروش سپاہی تھا۔ یہی اس کا جرم تھا وہ ہماری طرح بلوچستان میں جاری بھارتی سازشوں سے بخوبی آگاہ تھا نوجوانوں اور بچوں کو آگاہ کرتا تھا اس لئے بھارت سے شدید نفرت رکھتا تھا۔ جس کا برملا اظہار کرتا تھا ہاں نفرت کی اظہار کی وجہ سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کہ بھارتی ترنگے کا جوتا بنا کر پہنتا تھا۔
اپنی زندگی کی قیمت لگا کر ان تمام لوگوں کو پیغام دے گیا جو یہ کہتے ہے سوشل میڈیا بیکار ہے جو بوٹ پالشیت کا طعنہ دیتے ہیں جو وطن کی محبت کو ایمان کا حصہ نہیں مانتے ہیں سبز ہلالی پرچم کو لہراتے لہراتے آنے والی نسلوں کی خاطر قربانیوں کا ذکر چھوڑ گیا دشمنوں کے خلاف اتحاد کا سبق دے کر، حب الوطنی کا درس دے کر، سبز ہلالی پرچم کو لہرانے کا انداز سکھا کر،نظریہ پاکستان اور لا الہ الا اللہ کا مطلب سمجھا کر اسکی بنیاد کو سمجھاتے ہوئے ریاست سے غداری کرنے ،لوٹنے اور عیاشی کرنے والوں کو بتا گیا کہ وطنیت کیا ہے؟ شہادت پر غم نہ کرنے کا درس دے گیا اور پیسے کی لالچ کو پست کرتے ہوئے جان قربان کرتے ہوئے پاکستان سے عشق تا دم آخر پہچان بنا کر بالآخر اسی سبز ہلالی پرچم کو اوڑھ کر ابدی نیند تو سو گیا اور یہ پیغام دے گیا

چادر میں نہیں ھم کوجھنڈے میں اُتارو
مٹی کے عشق میں ہم، جوانی میں مَرے ہیں
حرف آخر یہ
مسافران راہ وفا کو شہید منزل دکھا گئے
کٹا کے غیور اپنے سر کو غرور کا سر جھکا گئے ہیں
اگر میرے بس میں ہوتا تو سید غوث اللہ آغا سمیت تمام شہداء کو نشانِ حیدر سے سرفراز کرتا جس سے اس عالی مرتبت تمغے کی شان دوبالا ہو جاتی کہ وہ شہیدِ وفائے پاکستان تھا”
کیونکہ شہید سراج رئیسانی ہو یا غوث اللہ اپنے بلوچ جانبازوں کے ساتھ پاکستان کے لئے میدان جنگ میں لڑ رہا تھا۔وہ شہید وطن اپنی جان سے گذر گئے اور یہ پیغام دے گیا
اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا
تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آتے ہیں

سوچ رہا ہوں

اج پھر شہید وطن سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کی شہادت کی طرح غوث اللہ کا جسد خاکی بھی گواہی دے رہا تھا اور دھرتی گواہ بن گئی ہے کہ

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
شہادت نے ان کی شخصیت کو نظریئے میں بدل دیا ہے پاکستان سے محبت کا نظریہ’ سرفروشی کی لازوال داستان بنادیا ہے۔
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سفرِ زندگی کے بدلتے موسم۔۔۔ !!!

سردی کی وجہ سے کرسی ذرا دھوپ میں بچھائی اور گرم گرم سورج کی کرنوں …

علامہ محمد اقبال__اسلام کے ترجمان۔۔۔ !!!

علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے ایک عظیم مفکر، شاعر،مصنف،سیاستدان،استاد،قانون دان،اور مسلمانانِ برصغیر کے لیئے …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: ففتھ جینریشن وار فئیر کے شہید سپاہی سید غوث اللہ آغا! This is the link: https://pakbloggersforum.org/stayed-ghaus-ullah-shah/