صفحہ اول / ساجدہ بٹ / خود کشی کمزور لوگوں کا شیوہ

خود کشی کمزور لوگوں کا شیوہ

خود کشی ہمارے معاشرے کا ایک اہم مسئلہ ہے جو دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ آئیے ہم ان وجوہات کاجائزہ لیتے ہیں جو خود کشی کا سبب بنتے ہیں۔

خود کشی کرنا دین اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے کیونکہ زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اس کی ڈور ہمیں اپنے ہاتھ میں نہیں لینی چاہیے۔
زندگی اور موت کا مالک اللہ تعالیٰ ہے وہ بہتر جانتا ہے کہ ہمارے لیے کیا اچھا ہے کیا بُرا اور کب ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے۔۔۔
ہمارے ساتھ ہونے والے ہر کام میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی مصلحت شامل ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کا رازق ہے
لیکن افسوس کہ ہم لوگ کیوں مایوس ہو جاتے ہیں۔ ہم لوگ نااُمید ہو جاتے ہیں۔ خوب جان لیجیے کہ خود کشی کمزور لوگوں کا شیوہ ہے ایک طاقت ور پر اعتماد بندہ کبھی بھی خود کشی جیسی حرام موت نہیں مرتا۔
وہ حالات کا مقابلہ بہادری اور شجاعت کے ساتھ کرتا ہے باشعور اور بے شعور میں ایک یہ ہی تو فرق ہوتا ہے۔

آج کل زیادہ تر لوگ ایسے ہی ہیں جو مایوس ہو کر خود کشی کر لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہماری اب تمام پریشانیاں ختم ہو جائیں گی۔
لیکن انہیں کیا معلوم پریشانی تو اب شروع ہوئی۔
آج کل اکثر لوگ ایسے ہوتے ہیں جو نوکریوں کی تلاش میں نکلتے ہیں پڑھے لکھے ہوتے ہیں لیکن روزگار نا ہونے کی وجہ سے دھکے کھاتے ہیں آخر کار مایوس
ہو کر خود کشی کر لیتے ہیں۔
کُچھ ایسے ہوتے ہیں جو گھر کی پریشانیوں کی وجہ سے خود کشی کر لیتے ہیں۔
آج کل کچھ ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں کہ شوہر اپنی بیوی اور بچیوں پہ ظلم و ستم کرتے ہیں مارتے ہیں حالات سے سہمی ہوئی ایسی خواتین اکثر اوقات خود کشی کر لیتی ہیں اور جس کی وجہ صرف و صرف شوہر کی اور سسرال والوں کی زیادتی ہوتی ہے۔
بہو کو دلہن بنا کر نہیں بلکہ باندی بنا کر لائے ہوں جیسے۔
پھر خود کشی کی ایک اور بڑھتی ہوئی وجہ بچوں کی امتحانات میں ناکامی بھی ہے۔چونکہ ہم نے اپنے بچوں پہ پریشر ہی اتنا ڈال دیا ہے کہ تم نے ڈاکٹر ہی بننا ہے تم نے بڑا افسر ہی بننا ہے تم نے فلاں فلاں بننا ہے اس لیے سب سے زیادہ نمبر حاصل کرو۔
یا مقابلہ بازی کرتے ہیں اور جب اس صورت حال پر پورا نہیں اترتے تو خود کشی کر لیتے ہیں تا کہ کسی سے ہمارا سامنا ہی نا ہو اور جان چھوٹ جائے۔

اور سب سے زیادہ اور اہم مسئلہ جس کی وجہ سے لوگ خود کشی کرتے ہیں والدین اگر بچوں کی کوئی بات نہ مانیں تو خودکشی کی دھمکی ملتی ہے۔
جیسے آج کل پسند کی شادی نہ ہو تو خود کشی۔۔۔گھر والے کہیں نہ مانے تو خود کشی۔۔
مانا کہ ہمارے مذہب میں شادی میں پسند کا خیال رکھنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن اس کے بھی کُچھ اصول و ضوابط ہیں۔
ایسا تو نہیں کے اپنے والدین ناراض کر کے اُن سے چھپ کے یا کورٹ میرج ہی کر لیں۔
اسلام میں اس چیز کی بالکل اجازت نہیں دی گئی بلکہ ولی کے بغیر نکاح ہی ممکن نہیں۔
یہ سب اور ایسے بہت سے اور مسائل ہیں جن کی وجہ سے لوگ خود کشی کرتے ہیں ۔خدارا حقیقت کو سمجھیں اپنے مسائل پر غور کریں اور انہیں حل کرنے کی کوشش کریں نا کہ خودکشی کر کے حرام موت مر جائیں اور اپنی اخروی زندگی بھی تباہ کر بیٹھیں۔ اللہ تعالی پر بھروسہ رکھیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو صلاحیتیں دی ہیں اُن کو بروئے کار لاتے ہوئے آگے بڑھ کر حالات کا مقابلہ کریں۔ کبھی بھی مایوس نہ ہوں مایوسی کمزور ایمان کی دلیل ہے۔اور خود کشی کرنا بھی کمزور لوگوں کا شیوہ ہے۔
اس لیے آپ خود کو کبھی دوسروں کے آگے کمزور نہ ظاہر ہونے دیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھیں وہی سب کا خالق، مالک اور رازق ہے۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

نوائے اقبال شرح بانگِ درا (ہمالہ بند 6)

آتی ہے ندّی فرازِ کوہ سے گاتی ہوئی کوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی …

نوائے اقبال شرح بانگِ درا (ہمالہ بند 5)

جنبشِ موجِ نسیم صبح گہوارہ بنی۔۔۔ا جھومتی ہے نشہء ہستی میں ہر گل کی کلی۔۔۔! …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: خود کشی کمزور لوگوں کا شیوہ! This is the link: https://pakbloggersforum.org/suicide-a-way-of-weaker-people/