صفحہ اول / Tag Archives: جواب شکوہ

Tag Archives: جواب شکوہ

جواب شکوہ بند نمبر 34 از عرفان صادق

دشت میں ،دامنِ کہسار میں، میدان میں ہے بحر میں، موج کی آغوش میں، طوفان میں ہے چین کے شہر، مراقش کے بیابان میں ہے اور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہے چشمِ اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے رفعتِ شان ” رَفعناَ لَکَ ذِکرَک ” دیکھے 📚کتاب :بانگ درا …

مزید پڑھیں

جواب شکوہ بند نمبر 28 ۔۔۔ سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

پاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیرا تو وہ یوسف ہے ،کہ ہر مصر ہے کنعاں تیرا قافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیرا غیریک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرا نخل شمع استی ودر شعلہ دود ریشہ تو عاقبت سوز بود و سایہ اندیشہ تو   📚نظم۔جواب …

مزید پڑھیں

جواب شکوہ بند نمبر 18 از عرفان صادق

جواب شکوہ  بند نمبر 18 عرفان صادق دمِ تقریر تھی مسلم کی صداقت بے باک عدل اس کا تھا قوی، لوثِ مراعات سے پاک شجَرِ فطرتِ مسلم تھا حیا سے نم ناک تھا شجاعت میں وہ اک ہستیِ فوق الادراک خود گدازی نمِ کیفیّت صہبایش بود خالی از خویش شُدن …

مزید پڑھیں

جواب شکوہ بند نمبر 17 ۔۔۔ عرفان صادق

جواب شکوہ بند نمبر 17 سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق  شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مُسلم موجود؟ وضع میں تم ہو نصارٰی، تو تمدّن میں ہنود یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود! یوں تو سید بھی ہو، …

مزید پڑھیں

جواب شکوہ از عرفان صادق

واعظِ قوم کی وہ پُختہ خیالی نہ رہی برق طبعی نہ رہی، شُعلہ مقالی نہ رہی رہ گئی رسمِ اذاں، رُوحِ بِلالی نہ رہی فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہی مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے یعنی وہ صاحبِ اوصافِ حجازی نہ رہے 📕کتاب۔ بانگِ درا ⭕نظم۔ …

مزید پڑھیں

جواب شکوہ بند نمبر 15 از عرفان صادق

جا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا، تو غریب زحمتِ روزہ جو کرتے ہیں گوارا، تو غریب نام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا، تو غریب پردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمھارا، تو غریب اُمَرا نشّۂ دولت میں ہیں غافل ہم سے زندہ ہے مِلّتِ بیضا غُرَبا کے دم سے …

مزید پڑھیں

جواب شکوہ بند نمبر 14 عرفان صادق

کون ہے تارکِ آئینِ رسولِ مُختار؟ مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار؟ کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار؟ ہو گئی کس کی نگہ طرزِ سَلَف سے بیزار؟ قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں کچھ بھی پیغامِ مُحمّدﷺ کا تمہیں پاس نہیں ⭕کتاب: بانگِ …

مزید پڑھیں

جواب شکوہ بند نمبر 13۔۔۔ عرفان صادق

جواب شکوہ  بند نمبر 13  عرفان صادق منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک حرَمِ پاک بھی، اللہ بھی، قُرآن بھی ایک کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں …

مزید پڑھیں

جواب شکوہ بند 8 تا 11 ۔۔۔ عرفان صادق

جواب شکوہ بند 8 تا 11 عرفان صادق وہ بھی دن تھے کہ یہی مایہء رعنائی تھا نازش موسمِ گل لالہ صحرائی تھا جو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھا کبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھا کسی یکجائی سے اب عہدِ غلامی کرلو ملت احمد مرسل کو مقامی کرلو ⭕کتاب۔ …

مزید پڑھیں

جواب شکوہ بند 2 تا 6 ۔۔۔ عرفان صادق

جواب شکوہ بند 2 تا 6 عرفان صادق پیرِگردوں نے کہا سن کے،کہیں ہے کوئی بولے سیارے، سرِ عرشِ بریں ہے کوئی چاند کہتا تھا،نہیں، اہلِ زمیں ہے کوئی کہکشاں کہتی تھی، پوشیدہ یہیں ہے کوئی کچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھا مجھے جنت سے نکالا ہوا …

مزید پڑھیں

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: جواب شکوہ بند نمبر 34 از عرفان صادق! This is the link: https://pakbloggersforum.org/jwab-shikwa-stanza-34/