صفحہ اول / Tag Archives: عرفان صادق

Tag Archives: عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات  از: عرفان صادق امتیں اور بھی ہیں،ان میں گنہ گار بھی ہیں عجز والے بھی ہیں،مست مے پندار بھی ہیں ان میں کاہل بھی ہیں،غافل بھی ہیں،ہشیار بھی ہیں سینکڑوں ہیں کہ تیرے نام سے بیزار بھی ہیں رحمتیں ہیں تیری اغیار کے کاشانوں پر برق گرتی ہے …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از: عرفان صادق محفلِ کون و مکاں میں سَحَر و شام پھرے مئے توحید کو لے کر صِفَتِ جام پھرے کوہ میں، دَشت میں لے کر ترا پیغام پھرے اور معلوم ہے تجھ کو، کبھی ناکام پھرے! دشت تو دشت ہیں، دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے بحرِ …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از: عرفان صادق ہم جو جیتے تھے ،تو جنگوں کی مصیبت کے لیے اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کےلیے تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیے سربکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کےلیے؟ قوم اپنی جو زرومالِ جہاں پر مرتی بت فروشی کے …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از: عرفان صادق تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے ، کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ ججتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی ⭕کتاب کا نام۔ بانگ درانظم …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از: عرفان صادق بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھی اہل چیں چین میں،ایران میں ساسانی بھی اسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھی اسی دنیا میں یہودی بھی تھے، نصرانی بھی پر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نے؟ بات جو بگڑی ہوئی تھی،وہ بنائی کس …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از: عرفان صادق ع ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظر کہیں مسجود تھے پتھر ، کہیں معبود شجر خوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظر مانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کیونکر؟ تجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام ترا؟ قوت بازوئے مسلم نے …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از: عرفان صادق دیکھ کر رنگِ چمن ہو نہ پریشاں مالی کوکبِ غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والی خس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالی گل بر انداز ہے خون شہدا کی لالی رنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہے یہ نکلتے ہوئے سورج کی افق …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات  از: عرفان صادق اے باد صبا کملی والے سے جا کہیو پیغام مرا قبضے سے امت بے چاری کے دیں بھی گیا دنیا بھی گئی یہ موجِ پریشاں خاطر کو پیغام لبِ ساحل نے دیا ہے دور وصالِ بحر ابھی تو دریا میں گھبرا بھی گئی ⭕کتاب….بانگ دراز …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات عرفان صادق تو شناسائے خراش عقدہ مشکل نہیں اے گل رنگیں ترے پہلو میں شاید دل نہیں زیب محفل ہے شریکِ شورش محفل نہیں یہ فراغت بزم ہستی میں مجھے حاصل نہیں اس چمن میں، میں سراپا سوز و سازِ آرزو اور تیری زندگانی بے گداز آرزو ⭕کتاب: …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات  از: عرفان صادق  برتر از اندیشہ سود و زیاں ہے زندگی ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی تو اسے پیمانہ امروزوفردا سے نہ ناپ جاوداں پیہم دواں،ہر دم جواں ہے زندگی ⭕کتاب۔۔۔۔بانگ درا نظم۔۔۔۔زندگی ♨مشکل الفاظ کے معانی برتر از اندیشہ ۔۔۔۔۔وسوسوں سے بالا۔۔۔۔وسوسوں سے …

مزید پڑھیں

Send this to a friend