صفحہ اول / Tag Archives: علامہ محمد اقبال

Tag Archives: علامہ محمد اقبال

جواب شکوہ بند نمبر 18 از عرفان صادق

جواب شکوہ  بند نمبر 18 عرفان صادق دمِ تقریر تھی مسلم کی صداقت بے باک عدل اس کا تھا قوی، لوثِ مراعات سے پاک شجَرِ فطرتِ مسلم تھا حیا سے نم ناک تھا شجاعت میں وہ اک ہستیِ فوق الادراک خود گدازی نمِ کیفیّت صہبایش بود خالی از خویش شُدن …

مزید پڑھیں

جواب شکوہ بند نمبر 17 ۔۔۔ عرفان صادق

جواب شکوہ بند نمبر 17 سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق  شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مُسلم موجود؟ وضع میں تم ہو نصارٰی، تو تمدّن میں ہنود یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود! یوں تو سید بھی ہو، …

مزید پڑھیں

جواب شکوہ از عرفان صادق

واعظِ قوم کی وہ پُختہ خیالی نہ رہی برق طبعی نہ رہی، شُعلہ مقالی نہ رہی رہ گئی رسمِ اذاں، رُوحِ بِلالی نہ رہی فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہی مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے یعنی وہ صاحبِ اوصافِ حجازی نہ رہے 📕کتاب۔ بانگِ درا ⭕نظم۔ …

مزید پڑھیں

جواب شکوہ بند نمبر 15 از عرفان صادق

جا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا، تو غریب زحمتِ روزہ جو کرتے ہیں گوارا، تو غریب نام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا، تو غریب پردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمھارا، تو غریب اُمَرا نشّۂ دولت میں ہیں غافل ہم سے زندہ ہے مِلّتِ بیضا غُرَبا کے دم سے …

مزید پڑھیں

جواب شکوہ بند نمبر 13۔۔۔ عرفان صادق

جواب شکوہ  بند نمبر 13  عرفان صادق منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک حرَمِ پاک بھی، اللہ بھی، قُرآن بھی ایک کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں …

مزید پڑھیں

جواب شکوہ بند 8 تا 11 ۔۔۔ عرفان صادق

جواب شکوہ بند 8 تا 11 عرفان صادق وہ بھی دن تھے کہ یہی مایہء رعنائی تھا نازش موسمِ گل لالہ صحرائی تھا جو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھا کبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھا کسی یکجائی سے اب عہدِ غلامی کرلو ملت احمد مرسل کو مقامی کرلو ⭕کتاب۔ …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از: عرفان صادق معزز قارئین۔۔۔ ! آج سے ہم علامہ اقبال رح کی شہرہ آفاق نظم جوابِ شکوہ شروع کرنے جا رہے ہیں۔ اس کے متعلق ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ یہ بزبانِ اقبال اللہ تعالی کی طرف سے ان شکووں کا جواب ہے جو *شکوہ* میں …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

لطف مرنے میں ہے باقی،نہ مزا جینے میں کچھ مزا ہے تو یہی خونِ جگر پینے میں کتنے بے تاب ہیں جوہر مرے آئینے میں کس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میں اس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیں داغ جو سینے میں رکھتے ہوں،وہ لالے ہی نہیں …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

بادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھے سنتے ہیں جام بکف نغمہ کو کو بیٹھے دور ہنگامہ گلزار سے یک سو بیٹھے تیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ‘ھو’ بیٹھے اپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دے برق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دے۔ ⭕کتاب: بانگِ درا نظم: …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سر فاراں پہ کیا دین کو کامل تُو نے اک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تُو نے آتش اندوز کیا عشق کا حاصل تُو نے پھونک دی گرمی رخسار سے محفل تُو نے آج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیں ؟ ہم وہی سوختہ ساماں ہیں، تجھے یاد نہیں …

مزید پڑھیں

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: جواب شکوہ بند نمبر 18 از عرفان صادق! This is the link: https://pakbloggersforum.org/jawab-e-shikwa-18-irfan-sadiq/