صفحہ اول / Tag Archives: علامہ محمد اقبال (صفحہ 2)

Tag Archives: علامہ محمد اقبال

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

بادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھے سنتے ہیں جام بکف نغمہ کو کو بیٹھے دور ہنگامہ گلزار سے یک سو بیٹھے تیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ‘ھو’ بیٹھے اپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دے برق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دے۔ ⭕کتاب: بانگِ درا نظم: …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سر فاراں پہ کیا دین کو کامل تُو نے اک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تُو نے آتش اندوز کیا عشق کا حاصل تُو نے پھونک دی گرمی رخسار سے محفل تُو نے آج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیں ؟ ہم وہی سوختہ ساماں ہیں، تجھے یاد نہیں …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات  از: عرفان صادق تیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئے شب کی آہیں بھی گئیں، صبح کے نالے بھی گئے دل تجھے دے بھی گئے، اپنا ِصلا لے بھی گئے آکے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئے آئے عشاق، گئے وعدہ فردا لے کر اب …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات  از: عرفان صادق بنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیا رہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیا ہم تو رخصت ہوئے ،اوروں نے سنبھالی دنیا پھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیا ہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہے کہیں ممکن ہے کہ ساقی …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از: عرفان صادق کیوں مسلمانوں میں ہے دولتِ دنیا نایاب تیری قدرت تو ہے وہ جِس کی نہ حد ہے نہ حساب تُو جو چاہے تو اٹھے سینئہ صحرا سے حباب رہروِ دشت ہو سیلی زدہء موجِ سراب طعنِ اغیار ہے، رسوائی ہے، ناداری ہے کیا تِرے نام …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات  از: عرفان صادق بت صنم خانوں میں کہتے ہیں ، مسلمان گئے ہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئے منزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئے اپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئے خندہ زن کفر ہے،احساس تجھے ہے کہ نہیں اپنی توحید کا کچھ …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات  از: عرفان صادق امتیں اور بھی ہیں،ان میں گنہ گار بھی ہیں عجز والے بھی ہیں،مست مے پندار بھی ہیں ان میں کاہل بھی ہیں،غافل بھی ہیں،ہشیار بھی ہیں سینکڑوں ہیں کہ تیرے نام سے بیزار بھی ہیں رحمتیں ہیں تیری اغیار کے کاشانوں پر برق گرتی ہے …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از: عرفان صادق محفلِ کون و مکاں میں سَحَر و شام پھرے مئے توحید کو لے کر صِفَتِ جام پھرے کوہ میں، دَشت میں لے کر ترا پیغام پھرے اور معلوم ہے تجھ کو، کبھی ناکام پھرے! دشت تو دشت ہیں، دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے بحرِ …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از: عرفان صادق ہم جو جیتے تھے ،تو جنگوں کی مصیبت کے لیے اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کےلیے تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیے سربکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کےلیے؟ قوم اپنی جو زرومالِ جہاں پر مرتی بت فروشی کے …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از: عرفان صادق تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے ، کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ ججتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی ⭕کتاب کا نام۔ بانگ درانظم …

مزید پڑھیں

Send this to a friend