صفحہ اول / Tag Archives: کلام اقبال

Tag Archives: کلام اقبال

جواب شکوہ بند نمبر 18 از عرفان صادق

جواب شکوہ  بند نمبر 18 عرفان صادق دمِ تقریر تھی مسلم کی صداقت بے باک عدل اس کا تھا قوی، لوثِ مراعات سے پاک شجَرِ فطرتِ مسلم تھا حیا سے نم ناک تھا شجاعت میں وہ اک ہستیِ فوق الادراک خود گدازی نمِ کیفیّت صہبایش بود خالی از خویش شُدن …

مزید پڑھیں

جواب شکوہ بند نمبر 17 ۔۔۔ عرفان صادق

جواب شکوہ بند نمبر 17 سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق  شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مُسلم موجود؟ وضع میں تم ہو نصارٰی، تو تمدّن میں ہنود یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود! یوں تو سید بھی ہو، …

مزید پڑھیں

جواب شکوہ از عرفان صادق

واعظِ قوم کی وہ پُختہ خیالی نہ رہی برق طبعی نہ رہی، شُعلہ مقالی نہ رہی رہ گئی رسمِ اذاں، رُوحِ بِلالی نہ رہی فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہی مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے یعنی وہ صاحبِ اوصافِ حجازی نہ رہے 📕کتاب۔ بانگِ درا ⭕نظم۔ …

مزید پڑھیں

جواب شکوہ بند نمبر 14 عرفان صادق

کون ہے تارکِ آئینِ رسولِ مُختار؟ مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار؟ کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار؟ ہو گئی کس کی نگہ طرزِ سَلَف سے بیزار؟ قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں کچھ بھی پیغامِ مُحمّدﷺ کا تمہیں پاس نہیں ⭕کتاب: بانگِ …

مزید پڑھیں

جواب شکوہ بند 2 تا 6 ۔۔۔ عرفان صادق

جواب شکوہ بند 2 تا 6 عرفان صادق پیرِگردوں نے کہا سن کے،کہیں ہے کوئی بولے سیارے، سرِ عرشِ بریں ہے کوئی چاند کہتا تھا،نہیں، اہلِ زمیں ہے کوئی کہکشاں کہتی تھی، پوشیدہ یہیں ہے کوئی کچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھا مجھے جنت سے نکالا ہوا …

مزید پڑھیں

جواب شکوہ بند 7 ۔۔۔ عرفان صادق

  ہاتھ بےزور ہیں،الحاد سے دل خوگر ہیں امتی باعثِ رسوائیِ پیغمبر ہیں بت شکن اٹھ گئے،باقی جو رہے بت گر ہیں تھا ابراہیم پدر اور پسر آزر ہیں بادہ آشام نئے،بادہ نیا،خُم بھی نئے حرم کعبہ نیا،بت بھی نئے، تم بھی نئے ⭕کتاب۔ بانگ درا نظم ۔جواب شکوہ بند …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از: عرفان صادق معزز قارئین۔۔۔ ! آج سے ہم علامہ اقبال رح کی شہرہ آفاق نظم جوابِ شکوہ شروع کرنے جا رہے ہیں۔ اس کے متعلق ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ یہ بزبانِ اقبال اللہ تعالی کی طرف سے ان شکووں کا جواب ہے جو *شکوہ* میں …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

لطف مرنے میں ہے باقی،نہ مزا جینے میں کچھ مزا ہے تو یہی خونِ جگر پینے میں کتنے بے تاب ہیں جوہر مرے آئینے میں کس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میں اس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیں داغ جو سینے میں رکھتے ہوں،وہ لالے ہی نہیں …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

قُمریاں شاخِ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیں پتّیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیں وہ پرانی رَوِشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیں ڈالیاں پیرہَنِ برگ سے عُریاں بھی ہوئیں قیدِ موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کی کاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کی! ⭕کتاب: بانگِ درا …

مزید پڑھیں

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سر فاراں پہ کیا دین کو کامل تُو نے اک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تُو نے آتش اندوز کیا عشق کا حاصل تُو نے پھونک دی گرمی رخسار سے محفل تُو نے آج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیں ؟ ہم وہی سوختہ ساماں ہیں، تجھے یاد نہیں …

مزید پڑھیں

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: جواب شکوہ بند نمبر 18 از عرفان صادق! This is the link: https://pakbloggersforum.org/jawab-e-shikwa-18-irfan-sadiq/