صفحہ اول / غلام زادہ نعمان صابری / حجر اسود، تاریخ و فضیلت

حجر اسود، تاریخ و فضیلت

پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی دنیا میں تشریف آوری سے پہلے خانہ کعبہ بتوں کا مسکن تھا جو پتھروں کے بنے ہوئے تھے جنہیں مشرکین مکہ پوجتے تھے اور جنہیں وہ اپنا خدا مانتے تھے۔لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا اور سب کو اسلام کی دعوت دی اورپتھروں کی عبادت سے منع فرما کر ایک معبود حقیقی کی عبادت کرنے کا حکم صادر فرمایا۔

لیکن خانہ کعبہ کی دیوار میں ایک ایسا پتھر بھی چن دیا جس کی عبادت لازم قرار دی،اس مبارک پتھر کا نام حجر اسود ہے۔
حجر اسود عربی زبان کے دو الفاظ کا مجموعہ ہے۔ حجر عربی میں پتھر اور اسود، سیاہ اور کالے رنگ کو کہتے ہیں۔ حجر اسود وہ کالے رنگ کا پتھر ہے جو کعبہ کی جنوب مشرقی دیوار میں نصب ہے۔ اس وقت یہ تین بڑے اور مختلف شکلوں کے کئی چھوٹے ٹکڑوں پرمشتمل ہے۔ یہ ٹکڑے اندازاً ڈھائی فٹ قطر کے دائرے میں جڑے ہوئے ہیں جن کے گرد چاندی کا گول دائرہ بنا ہوا ہے۔ جو مسلمان حج یاعمرہ کرنےجاتے ہیں ان کے لیے لازم ہے کہ وہ طواف کرتے ہوئے ہر بار حجراسود کو بوسہ دیں۔ اگر ہجوم زیادہ ہو تو ہاتھ کے اشارے سے بھی بوسہ دیا جاسکتا ہے۔ جس کو استلام کہتے ہیں۔ اس کے بارے میں احادیث میں لکھا ہے کہ یہ پتھر جب جنت سے اتارا گیا تھا تو اس وقت بالکل سفید تھا۔ اور اسکا نام حجرِ ابید تھا یعنی سفید پتھر تھا۔ جو بعد میں حوادثِ زمانہ اور بنی آدم کے گناہوں کی وجہ سے سیاہ ہوگیا۔
تاریخ اسلامی میں کچھ ایسے واقعات ملتے ہیں جن میں یہ تذکرہ ہے کہ حجر اسود کو چوری کیا گیا اور اس کو توڑنے کی کوشش کی گئی۔اسلامی روایات کے مطابق جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے۔ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے یہ پتھر جنت سے لا کر دیا جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے دست مبارک سے دیوار کعبہ میں نصب کیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد سب سے پہلے قبیلہ بنی جرہم کے متعلق ملتا ہے کہ ان لوگوں نے حجر اسود کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی۔تاریخ میں ہے کہ جب بنو بکر بن عبد مناہ نے قبیلہ ”بنی جرہم ” کو مکّہ سے نکلنے پر مجبور کیا تو انہوں نے مکّہ سے بے دخل ہوتے ہوئےکعبہ میں رکھے دو سونے کے بنے ہرنوں کے ساتھ ” حجر اسود ” کو کعبہ کی دیوار سے نکال کر زم زم کے کنویں میں دفن کر دیا اور مجبوراً یمن کی جانب کوچ کر گئے– اللہ تعالیٰ کی حکمت دیکھئے کہ یہ پتھر زیادہ عرصہ زم زم کے کنویں میں نہیں رہا – جس وقت بنو جرہم کے لوگ حجر اسود کو زم زم کے کنویں میں چھپا رہے تھے ایک عورت نے انھیں ایسا کرتے دیکھ لیا تھا – اس عورت کی نشان دہی پر حجر اسود کو زم زم کےکنویں سے نکال لیا گیا ۔
اس کے بعد ابو طاہر نامی شخص کی قیادت میں ” قرا ما تین "نے 317 ہجری میں مکّہ مکرمہ کا محاصرہ کرلیا اور مسجد الحرام جیسے مقدس مقام پر تقریبا” سات سو انسانوں کو قتل کیا اور زم زم کے کنویں اور مسجد الحرام کے احاطے کو انسانی لاشوں اور خون سے بھر دیا اسکے بعد اس نے مکّہ کے لوگوں کی قیمتی اشیاء کو اور کعبہ مکرمہ میں رکھے جواہرات کو قبضے میں لے لیا – اس نے کعبہ مکرمہ کے غلاف کو چیر پھاڑ کر اپنے پیروکاروں میں تقسیم کر دیا – کعبہ مکرمہ کے دروازے اور اسکے سنہری پر نالے کو اکھاڑ ڈالا – اور پھر بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ 7 ذوالحجہ317 ہجری کو ابو طاہر نے حجر اسود کو کعبہ مکرمہ کی دیوار سے الگ کردیا اور اس کی جگہ کو خالی چھوڑ دیا اور اس کو موجودہ دور میں جو علاقہ ” بحرین ” کہلاتا ہے وہاں منتقل کر دیا – یہ حجر اسود کا ایک نہات تکلیف دہ دور تھا – تقریبا 22 سال حجر اسود کعبہ مکرمہ کی دیوار سے جدا رہا – اس دور میں کعبہ مکرمہ کا طواف کرنے والے صرف اس کی خالی جگہ کو چومتے یا اس کا استلام کر تے تھے – پھر اللہ تعالیٰ کی مشیت دیکھئے کہ 22 سال بعد 10 ذوالحجہ 339 ہجری کو” سنبر بن حسن ” جس کا تعلق بھی قراماتین قبیلے سے ہی تھا ، اس نے حجر اسود کو آزاد کرا یا اور واپس حجر اسود کے اصل مقام پر پیوست کروا دیا – اس وقت ایک مسئلہ پیش آیا کہ کیا واقعی یہ اصلی حجر اسود ہی ہے یا نہیں تو اس وقت مسلمانوں کے ایک دانشور نے کہا وہ اس کو ٹیسٹ کر کے بتا دیگا کہ یہی اصل حجر اسود ہے یا نہیں کیوں کہ اس نے اس کے بارے میں احادیث کا مطا لعہ کر رکھا ہے .- اس نے حجر اسود پر آگ لگائی تو حجر اسود کو آگ نہیں لگی اور نہ ہی وہ گرم ہوا – پھر اس نے اس کو پانی میں ڈبویا تو یہ پتھر ہونے کے باوجود اپنی خصلت کے بر خلاف پانی میں ڈوبا نہیں بلکہ سطح آب پر ہی تیرتا رہا اس سے ظاہر ہو گیا کہ یہ اصل جنت کا پتھر ہی ہے کیوں کہ جنت کا پتھر کا آگ سے اور غرق یابی سے بھلا کیا تعلق ہو سکتا ہے –

پھرسن 363 ہجری میں ایک رومی شخص نے اپنے کلہاڑے سے حجر اسود پر کاری ضرب لگائی جس سے اس پرایک واضح نشان پڑ گیا – اس نے دوسری شدید ضرب لگانے کے لیے جیسے ہی اپنے کلہاڑے کو اٹھایا . اللہ تعالیٰ کی مدد آن پہنچی اور قریب ہی موجود ایک یمنی شخص نے جو اس کی یہ گھناونی کاروائی دیکھ رہا تھا ، چشم زدن میں اس نے اسے قتل کر ڈالا اور اس کی حجر اسود پر دوسری ضرب لگانے کی خواہش دل ہی میں رہ گئی –

اس کے بعدسن 413 ہجری میں فاطمید نے اپنے 6 پیروکاروں کو مکّہ بھیجا جس میں سے ایک ” الحاکم العبیدی ” تھا جو ایک مضبوط جسم کا مالک سنہرے بالوں والا طویل قد و قامت والا انسان تھا – وہ اپنے ساتھ ایک تلوار اور ایک لوہے کی سلاخ لایا تھا – اپنے ساتھیوں کے اکسانے پر اس نے دیوانگی کے عالم میں تابڑ توڑ تین ضربیں ”حجر اسود ” پر لگا ڈالیں جس سے اس کی کرچیاں اڑ گئیں – وہ ہزیانی کیفیت میں اول فول بکتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ ( معاذ الله ) جب تک وہ اسے پورا نہ اکھاڑ پھینکے گا تب تک سکوں سے نہ بیٹھے گا – بس اس موقع پر ایک مرتبہ پھر اللہ تعالیٰ کی مدد آن پہنچی اور گھڑ سواروں کے ایک دستے نے ان سب افراد کو گھیر لیا اور ان سب کو پکڑ کر قتل کردیا اور بعد میں ان کی لاشوں کو بھی جلا ڈالا۔
پھراسی طرح کا ایک واقعہ سن 990 ہجری میں بھی ہوا جب ایک غیر عرب باشندہ اپنے ہتھیا ر کے ساتھ مطاف میں آیا اور اس نے حجر اسود کو ایک ضرب لگا دی – اس وقت کا ایک شہزادہ ” شہزادہ نصیر ” مطاف میں موجود تھا جس نے اسے فوری طور سے موت کے گھاٹ اتار دیا –
سن 1351 ہجری کے محرم کے مہینے میں ایک افغانی باشندہ مطاف میں آیا اور اس نے حجرہ اسود کا ایک ٹکڑا توڑ کر باہر نکال دیا اور کعبہ کے غلاف کا ایک ٹکڑا چوری کر ڈالا -ا س نے کعبہ کی سیڑھیوں کو بھی نقصان پہنچایا – کعبہ مکرمہ کے اردگرد کھڑے محافظوں نے اسے پکڑ لیا – اور پھر اسے مناسب کارروائی کے بعد موت کی سزا دے دی گئی – اس کے بعد 28 ربیع الاول سن 1351 ہجری کو شاہ عبد العزیز نے حجر اسود کو دوبارہ کعبہ مکرمہ کی دیوار میں نصب کیا جو اس فاطر العقل افغانی نے نکال باہر کیا تھا – حجر اسود اس وقت ایک مکمل پتھر کی صورت میں نہیں ہے جیسا کہ یہ جنت سے اتارا گیا تھا بلکہ حوا د ث زمانہ نے اس متبرک پتھر کو جس کو بوسہ دینے کے لیے اہل ایمان کے دل ہر وقت بےچین رہتے ہیں آٹھ ٹکڑوں میں تبدیل کردیا ہے ۔
606ء میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی عمر مبارک35 سال تھی ، سیلاب نے کعبے کی عمارت کو سخت نقصان پہنچایا اور قریش نے اس کی دوبارہ تعمیر کی لیکن جب حجر اسود رکھنے کا مسئلہ آیا تو قبائل میں جھگڑا ہوگیا۔ ہر قبیلے کی یہ خواہش تھی کہ یہ سعادت اسے ہی نصیب ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے اس جھگڑے کو طے کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ حجر اسود کو ایک چادر میں رکھا اور تمام سرداران قبائل سے فرمایا کہ وہ چادر کے کونے پکڑ کر اٹھائیں۔ چنانچہ سب نے مل کر چادر کو اٹھایا اور جب چادر اس مقام پر پہنچی جہاں اس کو رکھا جانا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اس کو دیوار کعبہ میں نصب فرما دیا۔ سب پہلے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی ﷲ عنہ نے حجر اسود پر چاندی چڑھوائی ۔ 1268ء میں سلطان عبدالحمید نے حجراسود کو سونے میں جڑوادیا ۔ 1281ء میں سلطان عبدالعزیز نے اسے چاندی جڑوادیا

696ء میں جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی ﷲ عنہ خانہ کعبہ میں پناہ گزین ہوئے تو حجاج بن یوسف کی فوج نے کعبے پر منجنیقوں سے پتھر برسائے اور پھر آگ لگا دی۔ جس سے حجر اسود کے تین ٹکڑے ہو گئے۔ عباسی خلیفہ الراضی باللہ کے عہد میں ایک قرامطی سردار ابوطاہر حجر اسود اٹھا کر لے گیا اور کافی عرصے بعد اس واپس کیا۔

اس پتھر کے بہت سے فضائل ہیں جیسا کہ
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا : "بلاشبہ حجر اسود اورمقام ابراھیم جنت کے یاقوتوں میں سے یاقوت ہيں اللہ تعالٰی نے ان کے نوراورروشنی کوختم کردیا ہے اگراللہ تعالٰی اس روشنی کوختم نہ کرتا تو مشرق ومغرب کا درمیانی حصہ روشن ہوجاتا ۔” سنن ترمذی حدیث نمبر ( 804 ) ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا :
حجراسود جنت سے آیا تودودھ سے بھی زیادہ سفید تھا اوراسے بنی آدم کے گناہوں نے سیاہ کردیاہے ۔سنن ترمذی حدیث نمبر ( 877 )

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں :نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے حجراسود کے بارے میں فرمایا : اللہ کی قسم اللہ تعالٰی اسے قیامت کولاۓ گا تواس کی دوآنکھیں ہوں گی جن سے یہ دیکھے گا اورزبان ہوگی جس سے بولے گا اور ہراس شخص کی گواہی دے گا جس نے اس کا حقیقی استلام کیا ہو گا۔

حضرت ابن عمررضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا : اس کو چھونا گناہوں کا کفارہ ہے ۔ سنن ترمذی حدیث نمبر ( 959 )
یوں توحجر اسود ایک پتھر ہے مگر جس کی تعظیم و تکریم کا حکم نازل ہو جائے وہ عبادت بن جاتی ہے۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سنیپ چیٹ اسلامی تعلیمات کے آئینے میں

چند دن قبل کچھ پرانے دوست اکھٹے ہوئے۔ کچھ انجینیئرنگ کے سٹوڈنٹس اور کچھ ایم …

محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک عالمگیر شخصیت ۔۔۔ رحمت اللہ شیخ

امام الانبیاء حضرت محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر اور رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: حجر اسود، تاریخ و فضیلت! This is the link: https://pakbloggersforum.org/the-black-stone-2/