صفحہ اول / جویریہ رزاق / ‘ہے شعلوں کی لپیٹ میں جنتِ ارضی’ تحریر۔ جویریہ رزاق

‘ہے شعلوں کی لپیٹ میں جنتِ ارضی’ تحریر۔ جویریہ رزاق

"کشمیر "

وہ خطہء جس کا نام لکھتے ہوئے دل غم سے پھٹنے لگے
لکھتے ہوئے الفاظ بھی ساتھ نہ دیں
کہنے کو میری جنتِ ارضی لیکن حقیقت میں شعلوں کی لپیٹ میں جلتی ہوئی جہنم بن چکی ہے بلکہ بنا دی بھارت کی سفاک درندہ فوج نے
چناروں کی وادی کوہساروں کی وادی جہنم بنا دی گئی
ظلم و بربریت کی ایسی المناک دردناک داستانیں کہ اللہ کا عرش بھی ہل گیا ہوگا
جہاں کے چنار رو رہے ہیں
جہاں آبشاروں اور جھیلوں میں پانی نہیں مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے
ظلم و ستم کا یہ قصہ کب سے چلتا آ رہا ہے
جہاں معصوم کلیوں کو کھلنے سے پہلے ہی مسل دیا جاتا ہے
ماؤں کی گودیں اجاڑیں جاتی ہیں
سہاگنوں سے سہاگ چھین لئے جاتے ہیں
لیکن قربان جاؤں اسلام کی ان شہزادیوں پر جن کے حوصلے گودیں اجاڑ کر جگر کے ٹکڑے قربان کر کے
سہاگ لٹا کر بھی حوصلے پست نہیں ہوتے
مسلمان غلامی کبھی بھی قبول نہیں کرتا
تبھی تو
ہاں تبھی تو
آزادی کے یہ پروانے اسلام کے بیٹے کشمیر کے بیٹے ماؤں کے گھبرو جوان لختِ جگر دیوانہ وار نثار ہوتے چلے جا رہے ہیں
آگ اگلتی بندوقوں کے سامنے کشمیر کے دلیر بیٹے نہتے ہی پاکستان کا پرچم سینوں پہ لپیٹے ہوئے آتے ہیں
اس شعر کی مصداق

"ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں
تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں”

اور پھر سفاک بھیڑیوں کی گولی اسلام کے بیٹوں کے جگر چھلنی کرتی چلی جاتی ہے
لیکن پاکستان کی محبت پاکستان کا پرچم شہادت کے بعد بھی ان کے سینے سے جڑا رہتا ہے
جنازوں پہ پاکستان کے پرچم اور پھر قبروں پر بھی پاکستان کے پرچم اس بات کی گواہی ہیں کہ ہمیں شہید تو کیا جا سکتا ہے لیکن ارض پاکستان سے کبھی بھی الگ نہیں کیا جا سکتا
ایک بیٹا ابھی ماں دلہا بنا کر جنت کی طرف بھیجنے کو تیاری کر رہی ہوتی ہے کہ دوسرے جوان بیٹے کی میت سبز ہلالی پرچم میں لپٹی گھر آ جاتی ہے
ایک ہی وقت میں ایک ایک گھر سے کئی کئی جنازے اُٹھ رہے ہیں
اللہ اکبر
جنکی صبح بھی پاکستان کے نام سے ہوتی ہے رات بھی پاکستان کے نام سے ہوتی ہے
پاکستانیوں کیا کبھی سوچا ہے ہم کہاں کھڑے ہیں ؟؟
کیا ہم اپنی ہی دنیا میں مست تو نہیں؟؟
کیا ہم بھی ان کے لئے اتنی ہی محبت رکھتے ہیں ؟؟
کیا ہمارے دل بھی ان کے لیے یوں ہی دھڑک رہے ہیں ؟؟
اگر نہیں تو خدارا سنبھل جائیے کہ یہ وقت سونے کا نہیں ہے
خدا نہ کرے غفلت کی نیند میں سوتے رہنے سے ظلم و بربریت کا یہ سیلاب ہمارے دروازوں تک آ جائے
اللہ نہ کرے ایسا ہو تو اس پہلے جاگ جائیے
کہ کلمہ کی بنیاد پر اسلام کی نسبت سے وہ کوئی غیر نہیں ہمارے ہی بیٹے بچے جوان قربان ہو رہے ہیں
ہماری ہی مائیں بہنیں بیٹیاں عصمتیں لٹا رہی ہیں
کیا جرم ہے انکا صرف لا الہ الا اللہ
کلمہ انکا جرم بن گیا
اسلام کی نسبت سے پاکستان سے محبت انکا جرم بن گئی
یوں اسلام پورا ہی کفر کی نظر میں مجرم ہے
آج نہ ہم جاگے تو یہ آگ کے شعلے ہمیں بھی لپیٹ سکتے ہیں
خدرا جاگ جائیے
اگر ہم اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کے لئے آواز تو بلند کر سکتے ہیں
ہر جگہ ہر محفل میں نہتے کشمیریوں پر بھارت کی سفاکیت کا پول تو کھول سکتے ہیں
ہم انکی آواز تو بن سکتے ہیں نا
کہ جہاں سے اب انکی دلدوز چیخیں بھی سنائی نہیں دے سکتیں
موبائل سروس, انٹر نیٹ سب بند کئیے ہوئے نہ جانے ان پہ کیا قیامت بیت رہی ہوگی
الغرض کشمیر کا چپہ چپہ لہو رنگ ہے کہ بھارت کی درندگی بیان سے باہر ہے
آخر میں سوال ہے میرا
عالمی حقوق کی کھوکھلی تنظیموں سے
"ہاں تم ہی بتاؤ
انسانوں سے ان کے جینے کا حق ہی چھین لیا جائے کیا عدل و انصاف کے یہ پیمانے ہیں ؟؟”

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

گھر کی خاطر

آج میں بہت غمگین تھا کیوں کہ ہم نے بیرونی دباؤ کی خاطر ، ہمیں …

تنظیمی کلچر

زیادہ دن پرانی بات نہیں ایک لنڈے کے کامریڈ سستے انقلابی کو سمجھا رہا تھا …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: 'ہے شعلوں کی لپیٹ میں جنتِ ارضی' تحریر۔ جویریہ رزاق! This is the link: https://pakbloggersforum.org/the-paradise-on-earth-in-the-flames/