صفحہ اول / جویریہ چوہدری / یہ بچے پھول ہیں گُلشن کے۔۔۔(20 نومبر،بچوں کا عالمی دن)

یہ بچے پھول ہیں گُلشن کے۔۔۔(20 نومبر،بچوں کا عالمی دن)

بچے کسی بھی باغ کی رونق،خوشبو اور زینت کی طرح اور کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔۔۔

ان کے حقوق کا دفاع،تربیت،فلاح و بہبود اور تعلیمی و فنی صلاحیتوں کو اجاگر کر کے ہی ہم ایک صحتمند اور ترقی یافتہ معاشرے کا خواب دیکھ سکتے ہیں۔۔۔
کسی بھی دن کو منانے کا مقصد محض اس مسئلہ کے حوالے سے شعور بیدار کرنا ہو سکتا ہے۔۔۔ورنہ کسی بھی مسئلے کے حل کے لیئے ہر دن نئے عزم اور ولولے سے کام کرنے اور اپنے فرائض کا ادراک کرنے میں ہے۔۔۔
کیونکہ صرف دن منانے سے دنیا بھر کے حقوق کو ترستے لاکھوں بچے کوئی حقوق حاصل نہیں کر سکتے۔۔۔ !!!
بچوں کی صحت،تعلیم،موسمی ملبوسات،ذہنی بالیدگی،تفریح طبع کے اسباب مہیا کرنا ان کے بنیادی حقوق ہیں۔۔۔
مگر افسوس ہے کہ معاشرے سے عالمی سطح تک یہ پھول،جھلستے،مرجھاتے اور کملاتے دکھائی دیتے ہیں۔۔۔
کسی بھی معاشرے میں اس کی وجہ غربت،شعور کا فقدان اور وسائل کی عدم دستیابی ہوتی ہے۔۔۔بچوں کی خوراک کی کمی،اور بچپن کی بڑھتی اموات اس کی مثال کے طور پر سمجھی جا سکتی ہیں۔۔۔پھر آگے بڑھ کر سوسائٹی کا یہ طبقہ جو معاشی جھمیلوں کا شکار دکھائی دیتا ہے تو
اسی وجہ سے یہ ننھی جانیں اپنے سہانے بچپن کے خواب جلد ہی بکھیرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔۔۔اور زندگی کی سانسوں کو بحال رکھنے کے لیئے بھٹوں اور فیکٹریوں،ورکشاپوں اور کارخانوں میں ننھے مزدوروں کی صورت میں دکھائی دیتی ہیں۔۔۔ !!!
ننھے ہاتھوں میں پکڑے بھاری آوازار اور میلے اور چکنے کپڑوں میں ملبوس یہ پھول کسی بھی معاشرے کی زندہ دلی پر سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں۔۔۔؟؟؟
بچوں کے حوالے سے صرف ایک دن منا کر پھر خاموشی کی چادر تان لینے سے اس استحصال کو روکا نہیں جا سکتا۔۔۔
ان ننھے پھولوں کو کام کی جگہوں پر مار پیٹ،تشدد سے بری طرح مسلا جاتا ہے۔۔۔
یہی صورت حال اکثر کم عمر گھریلو ملازمین کے حوالے سے بھی سامنے آتی ہے۔۔۔جو ایک معاشرتی المیہ ہے۔۔۔ !!!!
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دس سال رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت کی،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اف تک نہیں کہا اور نہ یہ کہا کہ فلاں کام کیوں کیا اور کیوں نہیں کیا؟
(صحیح بخاری)۔
رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے ملازمین اور خدام کو اپنے جیسا کھِلانے،پلانے اور پہنانے کا حکم دیا ہے۔۔۔ !!!!
پھر اسی طرح جنسی زیادتی کی دہشت گردی کے واقعات کا سامنے آنا اور زیادہ ذلت کا عکاس ہوتا ہے۔۔۔ !!!
ان تمام صورتوں میں متاثر ہونے والا فریق یہ معصوم اور پھولوں کی مانند بچے ہی ہیں۔۔۔ !!!!
والدین کی طرف سے عدم توجہ،بے جا مار پیٹ اور حد سے زیادہ لاڈ پیار بھی معاشرے کے اس اہم ستون کو کھوکھلا کرنے کا باعث ہے۔۔۔۔شروع سے ہی بہترین تربیت،غربت ہو یا امارت مستقبل کی بہترین صلاحیتوں کے سامنے آنے کی نوید ہو سکتی ہے۔۔۔ !!!
پیار نرمی،اور محبّت سے ان پھولوں پر خوب صورت رنگ چڑھائے جا سکتے ہیں۔۔۔۔ !!!
عالمی سطح کی بات کی جائے تو دنیا کے کئی خطوں میں یہ پھول سخت گرم و سرد تھپیڑوں سے نبرد آزما ہیں۔۔۔جن کے گھر،درسگاہیں اُن سے چھین لی گئی ہیں۔۔۔
لاکھوں مہاجر بچے بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں۔۔۔
فلسطینی اور کشمیری بچوں کے گھروں،سکولوں پر غاصبوں نے نا جائز قبضے کر رکھے ہیں۔۔۔
اور ان کی تعلیمی سرگرمیوں اور ادویات و خوراک کے سنگین مسائل پیدا کیئے جاتے ہیں۔۔۔
ان کی تعلیمی قابلیت میں معاون سہولیات انٹر نیٹ وغیرہ پر بھی پابندیاں عائد ہیں۔۔۔۔
جن پر انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی بارہا تشویش کا اظہار کرتی ہیں،مگر دنیا میں امن کے حصول کے دعویدار صرف دعوؤں میں ہی کھوئے رہ جاتے ہیں۔۔۔اور انسانی حقوق کی پامالی مسلسل جاری ہے۔۔۔ !!!!
لیبیا،شام،عراق،یمن،افغانستان میں بھی جنگی کاروائیوں(زمینی و فضائی) کے دوران ہزاروں معصوم بچے لقمۂ اجل بن جاتے ہیں مگر سوائے افسوس کے کوئی اقدام نہیں کیا جاتا،تاکہ ایسی گھناؤنی مثالوں کو روکا جا سکے۔۔۔
اسلام تو وہ دینِ فطرت ہے جو جنگ کے دوران بھی معصوم بچوں،عورتوں اور بوڑھے لوگوں کے حقوق کی پاسداری کی تعلیم دیتا اور ان کے قتل سے سختی سے منع فرماتا ہے۔۔۔
پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بچوں کو پیار کرتے،سر پر ہاتھ پھیرتے،اوربوسہ دیتے تھے۔۔۔
نماز میں بچوں کے رونے کی آواز سن کر اس ڈر سے کہ بچے کی ماں کو تکلیف نہ ہو،نماز مختصر کر دیتے۔۔۔(صحیح بخاری)۔
ایک بدوی نے آکر پوچھا کہ کیا آپ لوگ اپنے بچوں کو بوسہ دیتے ہیں؟
ہم تو بوسہ نہیں دیتے۔۔۔۔
رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اگر اللّٰہ نے تمہارے دل سے رحم نکال دیا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں؟؟؟
(رواہ البخاری۔۔۔کتاب الادب۔
مگر آج اسلامی ممالک کے بچوں کے حقوق ہی ریزہ ریزہ ہو کر بکھر رہے ہیں۔۔۔؟؟؟
آج بھی بچوں کے حقوق کے حقیقی محافظ اسلام کی روشن تعلیمات پر عمل کی اشد ضرورت ہے۔۔۔
تاکہ ہر جگہ،ہر خطے میں مذہب،قوم اور نسل سے قطع نظر یہ پھول مسکراتے رہیں،
خوشبو سے گلشنوں کومہکاتے رہیں۔۔۔ !!!!
ایک محاورہ ہم اکثر استعمال کرتے ہیں کہ بچے تو سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔۔۔ !!!!
ان پر غلط نگاہیں پڑنے ہی نہ دیں۔۔۔ان کے محافظ بن جائیں تاکہ ان کے گُل رنگ چہروں پر یاسیت کی پرچھائیاں نہ پڑنے پائیں۔۔۔
ان کی روشن آنکھوں میں کمتری کے آنسو نہ جھلملانے پائیں۔۔۔ !!!
کہ ان بچوں کے حقوق کی حفاظت اپنے روشن مستقبل کی حفاظت کی ضمانت ہے۔۔۔ !!!!
ان بچوں کے تمام بنیادی حقوق کی زمہ داری والدین،معاشرے،درسگاہوں کے معلموں،عہدیداروں،اور حکومتوں سبھی پر عائد ہوتی ہے۔۔۔تاکہ کوئی سی بھی تپش ان پھولوں اور کلیوں کے جھلسنے کا باعث نہ بنے۔۔۔۔ !!!
یہ بچے پھول ہیں گلشن کے، ان
پھولوں کو ہنساؤ سب__
ان پھولوں اور کلیوں کی اداؤں کو مہکاؤ سب۔۔۔ !!!
ان پھولوں پر جوبن سے ہی یہ گلشن مسکرائے گا۔۔۔
کوئی سماج تب ہی پھر کامیاب بھی کہلائے گا۔۔۔ !!!!

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سنیپ چیٹ اسلامی تعلیمات کے آئینے میں

چند دن قبل کچھ پرانے دوست اکھٹے ہوئے۔ کچھ انجینیئرنگ کے سٹوڈنٹس اور کچھ ایم …

محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک عالمگیر شخصیت ۔۔۔ رحمت اللہ شیخ

امام الانبیاء حضرت محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر اور رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: یہ بچے پھول ہیں گُلشن کے۔۔۔(20 نومبر،بچوں کا عالمی دن)! This is the link: https://pakbloggersforum.org/the-roses-of-our-garden/