صفحہ اول / بلاگرز فورم / اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا ۔۔۔ تحریر : سلمان آفریدی

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا ۔۔۔ تحریر : سلمان آفریدی

حافظ ابتسام الحسن بھائی ایک انسان دوست ، حکمت سے معمور اور دعوتی جذبے سے سرشار عالم دین تھے۔ دعوتی تڑپ اور دین کے پھیلاؤ کی جو لگن ان مِیں دیکھی وہ بہت ہی کم لوگوں میں نظر آتی ہے۔ گزشتہ روز رات بارہ بجے کے قریب ہمارے ایک مشترکہ دوست اور ایک عزیز بھائی اویس کا فون آیا جنہوں نے اطلاع دی کہ سلمان بھائی ابتسام بھائی ہم میں نہیں رہے ، چند ثانیے تو یقین ہی نہیں آیا وہ کہنے لگے کہ ان کے چھوٹے بھائی اور اہلیہ ہسپتال میں ہیں میں اپنی فیملی کے ساتھ ان کے پاس جا رہا ہوں آپ بھی آ جائیں۔ میں کچھ تاخیر سے جب وہاں پہنچا تو ان کا جسد خاکی میو ہسپتال کے ڈیڈ ہاوس میں پوسٹ مارٹم کے لیے لایا جا رہا تھا۔ گلاب کی طرح کھلا ہوا چہرہ ، اور چہرے پر اطمینان دیکھ کر آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔

ابتسام بھائی روڈ ایکسیڈنٹ میں گاڑی کی ٹکر سے شہید ہوئے ۔ اطلاعات کے مطابق انار کلی بازار لاہور کے قریب گاڑی میں دو لوگ سوار تھے جو آپس میں کسی وجہ سے الجھے جس بناء پر گاڑی ابتسام بھائی کی بائیک سے جا ٹکرائی وہ گرے مگر اٹھ کر کھڑے ہو گئے گاڑی والا ڈر کر بھاگتے ہوئے دوبارہ ان سے جا ٹکرایا اور ان کو شدید چوٹیں آئیں۔ اس دوران وہاں موجود لوگ ڈرائیور کے ساتھی کو پکڑنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ ڈرائیور بھاگ نکلا۔ ابتسام بھائی کو قریب واقع میو ہسپتال لے جایا گیا جہاں پہلے ان کی طبیعت سنبھل گئی۔ اس دوران جب ان کی طبیعت بہتر تھی انہوں نے دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ ڈرائیور کو معاف کرنے کی بھی وصیت کی (اللہ اکبر کیسا اعلی ظرف انسان تھا، کیسا وسیع القلب آدمی تھا اللہ تو اس کو معاف کر اور اس سے راضی ہو جا) کچھ دیر ٹھیک رہنے کے بعد طبیعت پھر بگڑنا شروع ہوئی یہاں تک کہ ابتسام بھائی بہت سی آنکھوں کو اشکبار چھوڑ کر جان جان آفریں کے سپرد کر گئے۔
اس دھیمے مزاج اور خوبیوں سے مالا مال شخص کی وفات کی اطلاع جس جس نے سنی اس کا دل غم سےلبریز ہو گیا۔ ابتسام بھائی ایک واعظ اور خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی تحریر و تقریر سے دعوت کے کام میں مصروف عمل رہتے تھے۔ ڈیفنس کی جامع مسجد الرباط میں ایک لمبا عرصہ امام تراویح رہے۔ ان کی دلنشیں اور پرسوز آواز میں کی جانیوالی قرات قران سننے کے لیے لوگ دور دور سے آتے تھے خصوصا قنوت میں ان کا رو رو کر دعائیں کرنا دیکھ کر بہت رشک آتا جب وہ خود بھی رو رہے ہوتے اور ان کے پیچھے کھڑے مقتدیوں کی آنکھیں بھی اشکبار ہوتیں۔ سوشل میڈیا پر وہ علم و عمل انسٹیٹوٹ، پاک بلاگرز فورم سمیت کئی فورمز سے وابستہ تھے ۔ ان کے مضامین ، کالمز اور آڈیو ویڈیو لیکچرز گاہے بگاہے شائع و نشر ہوتے رہتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ حفظ القران اور تجوید کے استاد بھی تھے۔ مرکز الودق ڈیفنس اور دیگر کئی مقامات پر خدمات سرانجام دینے بعد انہوں نے حلیمہ سعدیہ ایجوکیشنل کمپلیکس نزد شرقپور روڈ پر کام کا آغاز کر رکھا تھا جہاں تعلیم بالغاں کے ساتھ مدرسہ حفظ القران اور تجوید کا بھی اجراء کیا جا چکا تھا۔ یقینا وہ گوناگوں صفات کے مالک اور کثیر الصلاحیت شخص تھے۔
ان کے ساتھ کام کرنے والے دوستوں میں طہ منیب بھائی نے ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اچانک وفات سے دل بہت غمگین اور اداس ہے۔ دعوتی اور اصلاحی پلیٹ فارمز پر ویڈیو ریکارڈنگ کے سلسلے میں ان سے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں۔ رمضان المبارک اور ربیع الاول میں محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر ان کے متعدد لیکچرز ریکارڈ کروائے جبکہ چند ماہ پہلے ان کی کال آئی جس میں انہوں نے اپنے مقتدیوں کے اصرار پر تلاوت قران کی ریکارڈنگ کے لیے آڈیو ریکاڈنگ سٹوڈیو کا پوچھا ہم نے ریکارڈنگ شروع کی اب تک تین پارے ہو چکے تھے کہ اللہ کی مشیت غالب آ گئی۔
اس طرح پاک بلاگرز فورم کے مدیر خنیس الرحمان نے ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ
ہم حافظ ابتسام رحمۃ اللہ کے ہوتے ہوئے فخر محسوس کرتے تھے کہ ہمارے درمیان عالم دین موجود ہیں آج پاک بلاگرز فورم ان کے جانے سے یتیم ہوگیا, ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا, یقین ہی نہیں آتا. بار بار ان کی گفتگو اور ان کے کہے ہوئے بہت سے الفاظ کانوں میں گونجتے ہیں۔ ان کو یاد کرنے اور کہنے کو بہت کچھ ہے مگر ان کی جدائی کا صدمہ اس قدر ہے کہ کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کہوں۔

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

شہادت کی دعائیں مانگنے والا شہادت کا یہ طلبگار ان شااللہ شہید ہو کر اپنے رب کے پاس پہنچا۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ رب العالمین ہمارے بھائی کی کوتاہیوں سے درگزر فرمائے اس کو معاف فرمائے اس سے راضی ہو جائے اور اس کو جنت الفردوس میں اپنا مہمان بنائے۔ آمین یا رب العالمین

متعلقہ نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

لاہور اک بار پھر لہولہان۔۔۔ محمد عبداللہ گل

امن کے دشمن رمضان کے با برکت مہینہ میں بھی قتل و غارت گری سے …

pakbloggersforum.org

آئی ایس پی آر کی گیم نے دشمن کی گیم الٹ دی

تحریر محمد فہیم شاکر   How your soldiers fight? Experience it for yourselves …. Glorious …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا ۔۔۔ تحریر : سلمان آفریدی! This is the link: https://pakbloggersforum.org/the-tragic-return-by-salman-afridi/