صفحہ اول / اسلامک بلاگز / خلیفۂ ثانی حضرت عمر(رضی اللہ تعالی عنہ)۔۔۔۔ (قسط:1) جمع و ترتيب : جویریہ چوہدری

خلیفۂ ثانی حضرت عمر(رضی اللہ تعالی عنہ)۔۔۔۔ (قسط:1) جمع و ترتيب : جویریہ چوہدری

وہ عمر جن کے بارے میں لبِ اقدس سے پھول جھڑتے ہیں:

کہ”میں نے جنت میں ایک محل دیکھا،
پوچھا یہ کس کا محل ہے؟
فرشتوں نے کہا:
عمر بن خطاب کا۔۔۔۔
میں نے چاہا کہ اس محل کے اندر جا کر دیکھوں۔۔۔۔
مگر تمہاری غیرت یاد آ گئی عمر۔۔۔ !!!!
حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ رو دیئے۔۔۔
کہ میرے ماں باپ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر قربان۔۔۔۔
بھلا میں آپ پر غیرت کرونگا؟؟؟”
(صحیح بخاری)۔
کبھی فرمایا:
"میں ایک بار سو رہا تھا،
سوتے میں۔۔۔میں نے دودھ پیا۔۔۔۔اتنا پیا کہ دودھ کی تازگی دیکھنے لگا۔۔۔۔
پھر میں نے اپنا بچا ہوا دودھ عمر رضی اللّٰہ عنہ کو دے دیا۔۔۔
صحابہ کرام رضوان اللہ نے سوال کیا:
اس کی تعبیر کیا ہے ؟
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"علم”۔۔۔۔۔”
(صحیح بخاری)۔

کبھی فرمایا:
"خطاب کے بیٹے!
قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔۔۔۔شیطان تم کو ایک راستے میں چلتا دیکھتا ہے تو وہ راستہ چھوڑ دیتا ہے۔۔۔”
(صحیح بخاری)۔
کبھی کہا:
"اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر رضی اللّٰہ عنہ ہوتا۔۔۔۔”
(ترمذی)۔
ابو موسیٰ اشعری رضی اللّٰہ عنہ کہتے ہیں کہ:
"مدینہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔۔۔۔
اتنے میں ایک شخص آیا اور کہا دروازہ کھولو۔۔۔
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
کھول دے اور جنت کی بشارت دے۔۔۔۔
میں نے دیکھا تو ابو بکر صدیق تھے۔۔۔
انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔
پھر ایک شخص آیا۔۔۔اور کہا:
دروازہ کھولو۔۔۔
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اجازت دے اور جنت کی خوشخبری بھی۔۔۔
میں نے دیکھا تو وہ عمر رضی اللّٰہ عنہ تھے۔۔۔
انہوں نے بھی اللہ تعالی کا شکر ادا کیا۔”(صحیح بخاری)۔
رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ابو موسیٰ کو باغ کے دروازے پر پہرہ دینے کا حکم دیا تھا۔۔۔۔ !!!
دنیائے اسلام کے دوسرے خلیفہ 583ء میں بنو عدی قبیلہ میں پیدا ہوئے۔۔۔
یہ قبیلہ سفارتکاری اور جھگڑے چکانے کے منصب پر فائز تھا۔
آپ علم الانساب،تلوار زنی،گھڑ سواری،اور پہلوان زنی کے ماہر تھے۔۔۔۔
شروع میں اسلام کے سخت مخالف تھے۔۔۔
لیکن یہ شانِ عمر تھی کہ جب اسلام قبول کیا تو علی الاعلان اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا تھا۔
7نبوی میں اسلام قبول کیا تو مسلمانوں کو ایک حوصلہ ملا۔۔۔۔
چھ سال بعد مسلمانوں نے خانہ کعبہ میں نماز ادا کی۔۔۔۔
بعد از خلافت صدیقی آپ رضی اللّٰہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا گیا۔۔۔
حضرت عمر وہ حکمران تھے جنہیں دنیا شرق تا غرب۔۔۔۔۔شمال تا جنوب ان کے بہترین طرز حکمرانی کی وجہ سے جانتی ہے۔۔۔۔
اسلامی نظام عملاً قائم ہو چکا تھا۔۔۔
اللّٰہ کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے معزز صحابہ آپ کی مجلسِ مبارک سے تربیت حاصل کر چکے تھے۔
مگر اس وقت چونکہ اسلامی حکومت جزیرۂ عرب تک محدود تھی۔۔۔۔
خلیفہ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے دورِ حکومت میں ریاست کے دفاع اور اندرونی انتشار پر توجہ دی۔۔۔۔
مگر جب حضرت عمر رضی اللّٰہ کا دور آیا تو پرچمِ اسلام دور دور تک لہرایا گیا۔۔۔
بڑی بڑی سلطنتیں امارت اسلامی کے زیرِ سایہ آتی چلی گئیں۔۔۔
لاکھوں مربع میل پر پھیلی اسلامی سلطنت کے نظام کو چلانے کے لیئے حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے ایک مفصل نظام کی تدوین کی۔۔۔ !!!!!
ساڑھے دس سال تک خلیفہ رہے مگر اس دوران جو شاندار و مثالی نظام عملی طور پر مردِ مجاہد کی کاوشوں کا نتیجہ و مرہون منت ہے۔۔۔۔
فتوحات و تعمیری کاموں کا دائرہ وسیع تر ہوتا چلا گیا۔۔۔۔
آپ نے سلطنت اسلامی کو سہولت کے لیئے آٹھ صوبوں میں تقسیم کیا تاکہ نظام چلانے میں دشواری نہ ہو۔۔۔
ان میں مکہ،مدینہ،بصرہ،شام،فلسطین،
کوفہ،مصر،اور جزیرہ شامل تھے۔۔۔ !!!!
آپ نے ترقیاتی کاموں اور تعمیری سرگرمیوں پر توجہ دی۔۔۔
رفاہ عامہ،مساجد اور مسافر خانے تعمیر کیۓ گئے۔

جیل خانہ جات کا قیام عمل میں لایا گیا۔

نہریں کھدائی گئیں۔

بیت المال کی منصوبہ بندی اور قیام عمل میں لایا گیا۔
جہاں بھی مال کی ضرورت ہوتی وہاں مال پہنچایا جاتا تھا۔

گورنروں،ازواج مطہرات،غریبوں کے وظائف،افواج کی تنخواہیں،
دفاعی و فلاحی منصوبے یہیں سے چلائے جاتے۔

مجلس شوری کا قیام عمل میں لایا گیا۔
آپ رضی اللّٰہ عنہ صحابہ کرام کی مجلس میں ان سے مشورہ لیتے۔

حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے خبر گیری(Reporting) کا مؤثر نظام قائم کیا۔
گورنروں کے بارے میں شکایات موصول ہوتیں۔۔۔۔
آپ باقاعدہ تحقیقات کرتے اور صحابئ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللّٰہ عنہ کو اس کام کے لیئے متعین فرمایا۔۔۔۔ !!!!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)۔

متعلقہ نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

"حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ” خلیفہ ثانی ۔۔۔. جویریہ چوہدری

پیارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی دعا کا ثمر۔۔۔ ابنِ خطاب حضرت عمر۔۔۔ کیسا …

خلیفۂ ثانی حضرت عمر(رضی اللّٰہ عنہ)۔۔۔ !!!!! (قسط:3)۔ جمع و ترتيب : جویریہ چوہدری

ایک دفعہ مشک و عنبر آئے۔۔۔ بیوی نے کہا: مالِ غنیمت آیا ہے،تقسیم کر دیتی …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: خلیفۂ ثانی حضرت عمر(رضی اللہ تعالی عنہ)۔۔۔۔ (قسط:1) جمع و ترتيب : جویریہ چوہدری! This is the link: https://pakbloggersforum.org/umar-bin-khattab-1/