صفحہ اول / عثمان عبدالقیوم / تنہائی کے گناہ اور نیکیاں

تنہائی کے گناہ اور نیکیاں

آج سے تقریباً 10, 15 سال پہلے فحش تصاویر، ویڈیو کلپس وغیرہ کا حصول کافی حد تک دشوار اور مشکل ہوا کرتا تھا اس برائی کے لئے ڈھکی چھپی ایک مخصوص جگہ ہوا کرتی تھی دنیا ترقی گئی اور آج کل موبائل اسکرین یا کمپیوٹر کے ایک بٹن کو ہلکا سا ٹچ کرنے سے یہ سارے مناظر آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں۔

یوں کہا جائے تو شاید غلط نا ہو گا جب سے اینڈرائیڈ موبائل کی دنیا میں ہم داخل ہوئے ہیں تنہائی کا لفظ زبان پر عام ہے۔ تقریبا آدھے سے زیادہ اینڈرائیڈ سے مستفید ہونے والوں میں زیادہ تر نوجوان لڑکے یا لڑکیاں تنہائی کا شکار ہیں اور موبائل ہاتھ میں تھامے ہوئے اکیلے بیٹھے ہوئے کوئی لکھنے میں مشغول ہے کوئی سننے میں اور کوئی ویڈیوز دیکھنے میں مصروف ہوتا ہے۔کوئی اس اینڈرائیڈ نما تنہائی کو اچھے کے لئے تو کوئی برائی کے لئے استعمال کرتا ہے۔دونوں کا عمل تسکین کی خاطر ہوتا ہے۔مگر معذرت کے ساتھ زیادہ تر یہ تنہائی برائی و زنا جیسی غلاظت سے بھری ہوتی ہے۔
یاد رکھو کہ برائی یا زنا صرف شرمگاہوں سے ہی نہیں ہوتی بلکہ ہاتھ، کان،ناک، آنکھ شاید جسم ہر خاص حصہ سے ہو سکتی ہو البتہ یہ الگ بات ہے کہ حد زنا صرف شرمگاہ والے زنا و برائی پر ہی لگتی ہے

انتہائی خطرناک مرحلہ ہے کیونکہ ہم اس عالم میں اس سوچ میں گناہ کرتے ہیں کہ دنیا والوں سے ہم پردہ کیے ہیں دنیا والوں سے پردہ کیے ہیں میرے کمرے کا دروازہ تو بند ہے میرے والدین میرے بڑے کہیں دوسرے کمرے میں موجود ہیں میرے سے چھوٹے بھی پاس موجود نہیں بعض اوقات گھر یا کسی مقام پر بلکل تنہا ہونے کا سوچ کر گناہ کر لیتے ہیں اپنے ایمان پر اپنے مسلمان ہونے پر ایک داغ لگا لیتے ہیں اور اس گناہ میں اس قدر مشغول ہو جاتے ہیں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ میرا لکھا اور دیکھا ہوا سب ایک کتاب میں جسکو اعمال نامہ کہتے ہیں وہاں رب کی طرف تعین کردہ فرشتے لکھ رہے ہیں یہ بھول جاتے آج تنہائی میں جن ہاتھوں سے لکھ رہا ہوں جن آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں محشر کے دن اللہ مالک الملک کے حکم پر میرے خلاف گواہی بول بول کر چیخ و پکار سے گواہی دیں گے۔
اللہ کا قرآن میں سورة یس کی آیت نمبر 65 سے اس بات کی گواہی دے رہا ہے
” آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور ہمارے ساتھ ان کے ہاتھ بولیں گے اور ان کے پاؤں شہادت دیں گے اس پر جو وہ کیا کرتے تھے۔”

ایک دن ایک گھڑی ایسی آئے گی ہم اسی طرح اللہ کی ناراضگی کا سبب بن رہیں ہوں گے کہ اچانک موت کا فرشتہ آئے گا اور جسم سے روح نکال لے جائے گا۔ کچھ لمحے کے لئے انتظار ہو گا ماں باپ بھائی بہن روئیں گے پھر جنازہ کی آواز آئے گی کلمہ شہادت کا لفظ کے ساتھ اصل جگہ کی جانب روانہ ہوں گے گھر والے دوست احباب کئی فٹ نیچھے دو چادروں میں دفنا کر مٹی کے ڈھیر میں چھوڑ آئیں گے بعد ازاں
تیرا میرا موبائل، کمپیوٹر یا کوئی اور ڈیوائس چیک کریں گے جب ماں یہ دیکھی گی کہ میری بیٹی یا بیٹا کیسے کارنامے کرتا رہا باپ دیکھے گا میرا بیٹا یا بیٹی تو زنا جیسے کام کرتا رہا اس بوڑھے باپ یا ماں پر کیا گزرے گی جب ہماری تنہائی کا ساتھی وہ ڈیوائس موت کے وقت اس برائی کو دکھائے گی یہ کرتا ہوا دنیا سے گیا بھائی بہن سب کیا سوچیں گے میرا تیرا تاثر کیا سے کیا ہوگا وہ معاشرہ جو ہمیں نیک سیرت سمجھتا رہا وہ کتنی بد دعائیں دے گا یہ تو دنیا کے رویے ہوں گے سوچ قبر کیا سلوک کرے گی مٹی کیا سلوک کرے گی جسم کے اعضاء اپنا اپنا بدلہ لیں گے سوال و جواب دینے کے قابل نا ہوں گے
جب ہم برائی کرتے ہیں بے حودہ تصاویر یا ویڈیوز یا بات چیت میں مشغول ہو اور دروازے پر کچھ آہٹ یا ہوا کا جھونکا یا معمولی سا کیھڑا رینگ جائے تو کیفیت میں ڈر خوف آ جاتا ہے کلیجہ منہ کوآ جاتا ہے سانس رک جاتی ہے اور دھڑکن تیز ہوجاتی ہے پھر وہ اپنا کمپیوٹر یا موبائل بند کرکے دروازہ کھول کر دیکھتا ہے

کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا میرے کرتوت کیونکہ میں بظاہر تو نیک پارسا ہوں میں نمازی ہوں میں بہت حسن سلوک ہوں میں تو ظاہرا برائی سے روکنے والا ہوں دنیا کیا کہے گی
اے میرے پیارے بھائیوں بہنوں ! اللہ تعالی اس سے بھی زیادہ قریب ہے ، اس کا خوف کیوں نہیں ؟

آدمی اور اس کے موبائل کی ناجائزاور رسواکن حرکتوں کے درمیان ’اللہ کے دھیان ‘ کی دیوار کے سوا کوئی دوسری چیز حائل نہیں۔

آج اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو جائیں اور تنہائی میں جو اللہ کی نافرمانیاں کی ہیں اللہ سے توبہ کریں اور اسی طرح کی تنہائی میں اللہ تعالی کی اطاعت کریں کیونکہ نیک اعمال گناہوں کو مٹاتے ہیں مگر اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ تنہائی کے گناہ بہت بڑے ہوتے ہیں ان کا مقابلہ صرف تنہائی کی عبادات کرتی ہیں اچھی یا بری موت کا سب سے بڑا سبب تنہائی کی عبادات اور شیطان کے بہکاوے سے گناہوں کا انبار ہے جو انسان اپنی تنہائی کی اصلاح کرتا ہے اللہ اس کا ظاہر و باطن درست کر دیتا ہے ، جو شخص تنہائی کے گناہ میں مبتلا ہو وہ اس سے پہلے توبہ کر لے کہ اللہ اس کے گناہ کو ظاہر کر دیں تنہائی کے گناہ ظاہری گناہوں کی نسبت نیکیوں کو زیادہ ضائع کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کا تذکرہ کیا جو تہامہ پہاڑ جیسی نیکیاں لائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ ان نیکیوں کو ضائع کر دے گا کیونکہ یہ لوگ جب تنہا ہوتے تو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کا ارتکاب کرتے تنہائی میں عبادت کرنا اللہ کو یاد کرنا گناہوں کو چھوڑنا گناہوں کے مٹنے اور نیکیوں کے عظیم ہونے کے بڑے اسباب میں سے ایک ہے تنہائی کے گناہ نفاق کی علامت ہیں ” وہ لوگوں سے چھپتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے نہیں چھپتے حالانکہ وہ ان کے ساتھ ہے جب وہ اللہ کو ناپسند باتیں کرتے ہوے رات بسر کرتے ہیں جس طرح تنہائی کی نیکیاں عظیم ہیں اسی طرح تنہائی کے گناہ ب بھی بہت خطرناک ہیں کیوں کہ جس سے تم تنہائی میں نہیں ڈرتے اس کی جلوت میں پیروی بھی تم منافقت کے علاوہ کسی صورت نہیں کرو گے ! جو خلوت کا رب ہے جلوت کا بھی وہی رب ہے.

سورة المائدہ میں اللہ رب العزت کے ارشاد کو یاد کیجئے اور غور فرمائیے

"لیعلم اللہ من یخافہ بالغیب” "اللہ تعالی جاننا چاہتا ہے کہ کون کون اللہ تعالی سے غائبانہ ڈرتا ہے۔”

تنہائی میں اپنے جسم و جاں سے جڑے اعضاء کی خاموشی سے دھوکے میں نہ پڑو ان اعضاء کی بے زبانی کے دھوکے میں مت آو اسلیے کہ ایک دن ان کے بولنے کا بھی آنے والا ہے۔

اے نوجوان
میں خلوت و جلوت میں سب سے پہلے خود کو اور تمہیں اللہ کی ذات پر تقوی کی نصیحت کرتا ہوں، یہی اللہ تعالی کی پہلے اور بعد میں آنے والوں کو نصیحت ہے،
جیسے کے سورة السناء کی آیت نمبر 131 میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں
” ہم نے تم سے پہلے کتاب دیے جانے والے لوگوں کو اور تمھیں بھی یہی نصیحت کی ہے کہ تقوی الہی اختیار کرو۔ ”

موبائل فون یا کمپیوٹر ایک صندوق ہے ، بالفاظ دیگر ’بینک لاکر‘ ہے، ان میں نیکیاں جمع کرو یا برائیاں۔ آپ اس میں جو بھی ڈالیں گے کل قیامت کے دن اپنے نامہ اعمال میں پائیں گے اللہ کے حضور دعا سب سے پہلے مجھے اور آپ سب کو عمل کو توفیق دیں اور سچی توبہ کرنے کی توفیق دیں۔

#UsmanAQ #عثمانیات #زادمسافر

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سنیپ چیٹ اسلامی تعلیمات کے آئینے میں

چند دن قبل کچھ پرانے دوست اکھٹے ہوئے۔ کچھ انجینیئرنگ کے سٹوڈنٹس اور کچھ ایم …

محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک عالمگیر شخصیت ۔۔۔ رحمت اللہ شیخ

امام الانبیاء حضرت محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر اور رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: تنہائی کے گناہ اور نیکیاں! This is the link: https://pakbloggersforum.org/virtues-and-sins-when-we-are-alone/