صفحہ اول / صدائے کشمیر / کیا ملا ہمیں؟؟؟ عشاء نعیم

کیا ملا ہمیں؟؟؟ عشاء نعیم

کشمیر میں بھارت نے عرصہ دراز سے ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ہوا ہے ۔جو آہستہ آہستہ مزید تیز سے تیز تر ہوتا گیا ۔
حال ہی میں بھارت نے پہلے اٹھائیس ہزار ‘پھر دس ہزار مزید فوج کو بھیج کر اور کشمیر میں انٹر نیٹ سروس بند کر کے گویا کشمیریوں کو قید کر کے ستم ڈھانے کی ٹھان لی ہے۔ کلسٹر بموں کا استعمال بھی کر رہا ہے ۔دوسری طرف بھارت نے مزید جرات دکھاتے ہوئے اپنے آئین سے آرٹیکل 37 نکال کی کشمیر کی آزادانہ ریاست کی حیثیت ختم کردی پے ۔بھارت اس وقت خوشی کے شادیانے بجا رہا ہے ۔
یہ ہے بھارت کا سفر کشمیر پہ قبضہ کرنے کے لیے ۔
دوسری طرف پاکستان کے سفر کا جائزہ لیتے ہیں ۔شروع میں سرکاری طور پہ کشمیر اپنا حصہ مانا گیا آدھا کشمیر آزاد بھی کروایا گیا ۔پھر پاکستان سے بھی فریڈم فائٹر جاتے رہے ۔
لیکن پھر وطن غداروں بزدلوں کے ہاتھ آ گیا اور واپسی کا سفر شروع ہو گیا ۔
پہلے پاکستان سے جانے والوں کو دراندازی کرنے والے مان کر ان کو جانے سے روکا گیا ۔
کشمیر کے حل کے لیے الیکشن کو تسلیم کیا گیا ۔
پھر پاکستان میں کشمیریوں کے لئے آواز اٹھانے کی آزادی تھی آہستہ آہستہ اسے دبانا شروع کیا اور پھر اس آواز کو ہی پابند کردیا گیا جس کے پیچھے اور آوازیں آتی تھیں ۔
حافظ سعید جو کشمیریوں کے حق میں اٹھنے والی ایک مضبوط آواز اور جدوجہد تھی ان کی جماعت کو بین اور ان کو گرفتار کرلیا گیا ۔
اس طرح محبان وطن کو پابند سلاسل کر دیا گیا ۔
بہت سے ایسے فیصلے تسلیم کر لیے گئے جو کشمیر کے لیے انتہائی نقصان دہ تھے ۔
یہی وجہ ہے کہ آج بھارت انتہا پہ جا چکا ہے اور پاکستان ابھی بھی شش و پنج میں دکھائی دیتا ہے ۔
کیا اب پاکستان کشمیر کے لیے صرف قرارد ہی پاس کرے گا یا کوئی عملی قدم بھی اٹھائے گا ؟
سمجھ نہیں آتا یہ ایٹم بم تو کفار کو ڈرانے کے لیے بنایا تھا مگر انھیں تو یہ ریلیکس رکھے ہوئے ہیں اور ہمیں ہی اس سے ڈرایا جاتا ہے کہ یہ اتنا آسان نہیں ‘ دو ملکوں میں ایٹمی جنگ ہو سکتی ہے وغیرہ ۔
ارے ہونے دو ایٹمی جنگ ۔
کیا یہ بم اپنی حفاظت کے لیے نہیں؟
کیا کشمیر پاکستان کی شہہ رگ نہیں؟
کیا اس طرح پاکستان کے دیگر حصوں کو بھی جو مرضی اپنا حصہ بنا لے ہم یوں ہی ایٹمی جنگ سے ڈرتے رہیں گے ؟(اللہ نہ کرے)
کیا ہمارے پاس ایٹم بم نہیں؟
کیا بھارت کی آبادی اور علاقے بھی ویسے ہی متاثر نہ ہوں گے جیسے ہم ہوں گے ؟
جب وہ ہندو ہو کر نہیں ڈرتے جو سیدھے جہنم جا ئیں گے تو ہم مسلمان ہو کر کیوں ڈرتے ہیں جو سیدھا جنت جائیں گے ان شا اللہ
کشمیر ہمارے لیے ایک ضد نہیں ہے بلکہ کشمیر کے بغیر پاکستان ادھورا ہے ۔
پاکستان کے دریا کشمیر سے نکلتے ہیں ۔
بھارت پاکستان کو خشک سالی سے مارنے کے لئے یہ سب کر رہا ہے۔
جب بھارت بے خوف ہے تو ہمیں کس بات کا ڈر ہے ۔
مارو یا مار دو
کشمیر ہمارا ہے ۔
گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی اچھی ہے ۔
پوری قوم بھارت کے ساتھ لڑنےاور شہادت کے لئے بھی تیار ہے ۔ہم کشمیر کسی صورت بھارت کو نہیں دے سکتے ۔
ہمیں کسی چیز سے ڈرا کر بےوقوف نہ بنایا جائے ۔ہمیں کشمیر کی آزادی چاہیے ہمیں آزاد کشمیر دلایا جائے ۔

متعلقہ نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

آزادی ۔۔۔۔۔۔ کلام: احمد رئیس

مقبوضہ کشمیر ہو یا آزاد کشمیر ہر شخص جانتا ہے مصرفِ شمشیر زورِ بازو سے …

کشمیر کا سودا نامنظور ۔۔۔ عشاء نعیم

خان صاحب آپ کو ہم نے وطن سے غداروں، کرپٹ مافیہ کی صفائی اور تبدیلی …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: کیا ملا ہمیں؟؟؟ عشاء نعیم! This is the link: https://pakbloggersforum.org/what-did-we-get-and-what-did-we-lost/