صفحہ اول / قومی زبان / زبان اور اہل زبان، فاطمہ قمر

زبان اور اہل زبان، فاطمہ قمر

زبان اور اہل زبان

فاطمہ قمر

پاکستان قومی زبان تحریک

وزیراعظم صاحب نے او آئی سی کے اجلاس میں مسلم امہ کے جذبات و خیالات کی بہت اچھے طریقے سے ترجمانی کی۔ تقریر کا نفس مضمون اگرچہ بہت اسلامی جذبات اور مسلمانوں کے وقار کی بحالی اور قومی خود اعتمادی کے حوالے سے بہت بھرپور تھا۔ لیکن کیا ہی اچھا ہوتا اگر وزیراعظم صاحب اپنے خطاب کو اپنی قومی زبان میں اپنےدلی جذبات و احساسات کے ساتھ پیش کرتے۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ دل کی بات ہمیشہ اپنی زبان میں کہی جاتی ہے۔ او آئی سی کے جتنے بھی رکن ممالک تھے ان میں پاکستان کو جوہری طاقت ہونے کے باعث عالم اسلام میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ پاکستان مسلم امہ کا رہنما ہے۔ او آئی سی کے جتنے بھی ممالک تھے ان ممالک کی زبانوں میں اردو دنیا کی دوسری بڑی زبان ہے ۔اتنی مقبول عالمی زبان اور ساتویں ایٹمی طاقت کے وزیراعظم اپنا مافی الضمیر دنیا کے سامنے اپنا قومی لباس زیب تن کر کے اگر اپنی قومی زبان میں بیان کرتے تو پاکستان کے وقار میں بہت اضافہ ہوتا۔ آخر مودی ہر فورم پر ہندی کو فروغ دے رہا ہے۔ ہر جگہ ہندی ہی میں اپنا موقف پیش کرتا ہے تو کیا پاکستان کسی سے کم ہے؟ ہمیں تو وزیراعظم صاحب کی وہ تقریر بھی یاد ہے جب انہوں نے بحیثیت قائد حزب اختلاف، انگریزی کے گھر انگلستان میں انگریزی میں تقریر کرنے سے یہ کہہ کر منع کیا کہ "اردو تو جمائما بھی سمجھ لیتی ہے۔ آپ تو سب پاکستانی ہیں۔ آپ کے سامنے انگریزی میں کیوں بات کروں؟”
وزیراعظم صاحب! ہمیں تو آپ کی یہ بات یاد ہے، "تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو!”
ہم آپ کو بتادیں کہ آپ نے اپنی ایسی ہی ” دیسی باتوں” سے اقتدار کی مسند حاصل کی ہے۔ آپ تصور کریں کہ جب آپ نفاذ اردو کے فیصلے پر عملدر آمد کے انتظامی احکامات جاری فرمائیں گے تو آپ مقبولیت کی کس انتہا پر ہونگے؟۔ خدا را! اپنی خود نوشت کے مطابق ( جس میں آپ نے انگریزی غلامی سے نفرت کا اظہار کیا ہے) نفاذ اردو فیصلے پر عملدر آمد کروائیں اس فیصلے کے لئے نہ تو آپ کو مہنگائی کو دیکھنا ہے’ نہ بجٹ کو ‘ نہ ڈالر کو’ نہ کم وسائل کو’ نہ آئی ایم ایف کو، یہ حکم صرف آپ نے اپنی نیک نیتی اور آہنی عزم سے صادر کرنا ہے۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

مجھے کیوں نکالا؟

"ایئر ایمبولینس میں بیٹھتے ہی طبیعت سنبھلنی شروع ہو گئی ہے، پلیٹلیٹس کی کمی کا …

ہائےآمریت تجھے کیا رونا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قسم سے ، مجھےتو اب جمہوریت سے بھی ڈر لگتا ہے

ہاں ہاں ابھی بچگانہ ذہن تھا ۔گھر والوں کا پیٹ پالنے کےلیے محنت مزدوری کا …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: زبان اور اہل زبان، فاطمہ قمر! This is the link: https://pakbloggersforum.org/zuban-or-ahl-zuban-fatima-qamar/